سعودی عرب نے اپنی ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ کو دوبارہ فعال کر کے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ’ینبع‘ کے راستے پاکستان کے لیے خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق توانائی کی عالمی رسد میں سعودی عرب کا کردار انتہائی کلیدی ہے۔ حالیہ پیش رفت کے بعد مملکت کے مشرقی علاقوں میں موجود تیل کے وسیع ذخائر اور ’آئل فیلڈز‘ سے نکالا جانے والا خام تیل اب براہِ راست بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اہم تجارتی بندرگاہ ’ینبع‘ تک پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔
اس پائپ لائن کی بحالی نے تیل کی عالمی منڈی، خصوصاً پاکستان کے لیے، سپلائی چین کے ایک محفوظ اور تیز ترین متبادل راستے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
پاکستان کی تجارتی حکمتِ عملی میں تبدیلی
حالیہ کچھ عرصے کے دوران آبنائے ہرمز کے روایتی راستے میں بحری ٹریفک کی کمی اور دیگر سٹریٹجک وجوہات کی بنا پر پاکستان نے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تجارتی حکمتِ عملی میں تبدیلی کی ہے۔
پاکستان اب آبنائے ہرمز کے بجائے سعودی عرب کی ’ینبع‘ بندرگاہ کا استعمال بڑھا رہا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف تیل کی ترسیل کو محفوظ بناتا ہے بلکہ سفری وقت اور اخراجات کے حوالے سے بھی ایک مؤثر متبادل ثابت ہو رہا ہے۔
13 ستمبر کے حملے اور تعطل
واضح رہے کہ 13 ستمبر کو سعودی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت اس اہم پائپ لائن کو فوری طور پر بند کر دیا گیا تھا۔
اس اچانک بندش کی وجہ سے ایکسپورٹ ٹرمینل پر تیل کی لوڈنگ کا عمل مکمل طور پر رک گیا تھا، جس سے خطے میں توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات نے جنم لیا۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے ترسیلی نظام کی تیز ترین بحالی نے ان تمام خدشات کو زائل کر دیا ہے۔
توانائی کے بحران سے بچاؤ کی کامیاب سفارت کاری
اقتصادی اور سٹریٹجک ماہرین اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے انتہائی خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر ایک حساس ترین آبی گزرگاہ ہے جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی سے تیل کی ترسیل فوراً متاثر ہوتی ہے۔
بحیرہ احمر کے متبادل روٹ کا انتخاب پاکستان کی دور اندیشی پر مبنی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس بحالی سے پاکستان کی ریفائنریز کو بلاتعطل خام تیل مل سکے گا، جس سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ممکنہ بحران کا خطرہ ٹل گیا ہے اور معاشی استحکام کو تقویت ملے گی۔