برطانیہ میں معروف گلوکاروں اور موسیقاروں کے نام سے جعلی ونائل ریکارڈز تیار کرکے فروخت کرنے والے 40 سالہ شخص کو عدالت نے ساڑھے 3 سال قید کی سزا سنا دی۔
مغربی لندن سے تعلق رکھنے والے ریحان احمد نے دی بیٹلز، ٹیلر سوئفٹ، ایڈ شیرن، ایڈیل، آریانا گرانڈے، ڈریک، بیونسے اور ریحانہ سمیت 108 سے زائد فنکاروں کے نام سے جعلی ریکارڈز تیار کیے۔ حکام کے مطابق ملزم نے تقریباً 7 سال تک یہ غیر قانونی کاروبار جاری رکھا اور اس دوران 27 لاکھ پاؤنڈ سے زائد منافع کمایا۔
گودام سے ہزاروں جعلی ریکارڈز برآمد
سٹی آف لندن پولیس کے مطابق ریحان احمد کے خلاف تحقیقات فروری 2024 میں شروع ہوئیں، جب برٹش فون رافک انڈسٹری کے نمائندوں نے خفیہ خریداری کے ذریعے اس کے کاروبار کا سراغ لگایا۔
نمائندوں نے ایکٹن میں واقع ’فینکس آف وائنل‘ نامی گودام سے کچھ ریکارڈز خریدے۔ جانچ کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ریکارڈز جعلی تھے۔ بعد ازاں پولیس نے گودام پر کارروائی کی، جہاں سے 2 ہزار 791 جعلی ونائل ریکارڈز برآمد ہوئے۔ پولیس کے مطابق یہ برطانیہ میں ایک ہی کارروائی کے دوران جعلی ونائل ریکارڈز کی سب سے بڑی برآمدگی تھی۔
18 ٹن سامان قبضے میں لے لیا گیا
تفتیش کے دوران پولیس نے گودام سے جعلی ریکارڈز تیار کرنے کے لیے استعمال ہونے والی تقریباً 70 سال پرانی چار ونائل پریس مشینیں بھی برآمد کیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 3 ہزار دھاتی اسٹیمپرز، ہزاروں ریکارڈ کورز اور سینٹر لیبلز بھی قبضے میں لیے گئے۔ حکام کے مطابق مجموعی طور پر ضبط کیے گئے شواہد کا وزن تقریباً 18 ٹن تھا۔
موسیقی کی بڑھتی مقبولیت سے فائدہ اٹھایا
سٹی آف لندن پولیس کے انٹلیکچول پراپرٹی کرائم یونٹ کے ڈیٹیکٹو کانسٹیبل ڈیرل فرائٹ نے کہا کہ ریحان احمد نے ونائل ریکارڈز کی دوبارہ بڑھتی ہوئی مقبولیت کو اپنے مالی فائدے کے لیے استعمال کیا۔
ان کے مطابق جعلی ونائل ریکارڈز کی تیاری اور فروخت غیر قانونی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے جرائم کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔ برٹش فون رافک انڈسٹری کے ڈائریکٹر آف کنٹینٹ پروٹیکشن پیٹر ریٹ کلف نے عدالت کے فیصلے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کارروائی کے نتیجے میں جعلی ریکارڈز کا ایک بڑا نیٹ ورک ختم کردیا گیا۔
ان کے مطابق اس غیر قانونی کاروبار سے فنکاروں، ریکارڈ لیبلز اور قانونی طور پر موسیقی فروخت کرنے والے کاروبار کو مالی نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ونائل ریکارڈز کی مقبولیت میں دوبارہ اضافے کے ساتھ جعلی ریکارڈز کی مارکیٹ بھی بڑھ رہی ہے، جس سے فنکاروں اور موسیقی کے شائقین دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔