آزاد فیکٹ چیک کے مطابق سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کارروائیوں کے دوران افغان شہریوں کو نشانہ بنانے سے متعلق غلط معلومات پھیلائی جارہی ہیں۔ آزاد فیکٹ چیک نے ان دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی کارروائیوں کا ہدف افغان شہری نہیں بلکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کیمپ اور ٹھکانے تھے۔
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے حوالے سے ایسا تاثر پھیلایا جارہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا، تاہم فیکٹ چیک کے مطابق یہ معلومات درست نہیں اور اس نوعیت کے دعوے افغان پروپیگنڈے کے طور پر پھیلائے جارہے ہیں۔
فیکٹ چیک کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی کارروائیوں میں اہداف کے تعین کا بنیادی مقصد افغانستان میں موجود ان دہشت گرد عناصر کے مراکز کو نشانہ بنانا تھا جو پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں سے منسلک ہیں۔
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی کارروائیوں کا ہدف اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم کے طور پر فہرست میں شامل تحریک طالبان پاکستان کے کیمپ اور ٹھکانے تھے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ فہرست کے مطابق تحریک طالبان پاکستان( ٹی ٹی پی) کو 29 جولائی 2011 کو القاعدہ سے وابستگی کی بنیاد پر پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق ٹی ٹی پی نے پاکستان میں ریاستی اداروں، سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنانے والی متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
حالیہ کارروائیوں کے بعد پاکستان کی وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ مؤقف میں کہا گیا کہ افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارت کے مطابق کارروائیاں قابل اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں اور ٹی ٹی پی سے منسلک دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو منتخب طور پر ہدف بنایا گیا۔
پاکستانی حکام نے کارروائیوں کو ’کیلیبریٹڈ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اہداف کے انتخاب میں احتیاط برتی گئی۔ حکومتی مؤقف کے مطابق کارروائیوں کا مقصد پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنانا تھا۔