سونا سات ہفتے کی بلند ترین سطح کے بعد نیچے آگیا

سونا سات ہفتے کی بلند ترین سطح کے بعد نیچے آگیا

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت سات ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد پیر کو معمولی کمی کا شکار ہوگئی سرمایہ کاروں کی نظریں اب رواں ہفتے امریکا میں جاری ہونے والے مہنگائی کے اہم اعداد و شمار پر مرکوز ہیں جن کے نتیجے میں سونے کی عالمی قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ آسکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 0.5 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد سونا 4,322.28 ڈالر فی اونس پر آگیا۔ گزشتہ ہفتے عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 17 جون کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔

امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت بھی پیر کو 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,381.60 ڈالر فی اونس ہوگئی۔

ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت میں حالیہ تیزی کے بعد بعض سرمایہ کاروں نے منافع کمانے کے لیے سونا فروخت کیا جس کے باعث قیمت میں معمولی کمی ہوئی۔ تاہم موجودہ کمی کو سونے کی مارکیٹ کے مجموعی رجحان میں بڑی تبدیلی نہیں سمجھا جا رہا۔

یہ بھی پڑھیں:ایزی پیسہ صارفین کے لیے اہم الرٹ

امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار اہم کیوں؟

رواں ہفتے امریکا میں مہنگائی سے متعلق دو اہم رپورٹس جاری ہوں گی۔ صارف قیمت اشاریہ (CPI) بدھ جبکہ پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) جمعرات کو جاری کیا جائے گا۔

ان اعداد و شمار سے سرمایہ کار یہ اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ امریکی مرکزی بینک، یعنی فیڈرل ریزرو، آنے والے دنوں میں شرح سود کے بارے میں کیا فیصلہ کرسکتا ہے۔

عام طور پر امریکا میں شرح سود کم ہونے یا مستقبل میں شرح سود میں کمی کی توقع بڑھنے سے سونے کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سونا خود سود نہیں دیتا اس لیے جب شرح سود کم ہوتی ہے تو سرمایہ کاروں کے لیے سونے کی کشش نسبتاً بڑھ جاتی ہے۔

دوسری جانب اگر امریکی مہنگائی توقع سے زیادہ بڑھتی ہے تو شرح سود میں فوری کمی کے امکانات کم ہوسکتے ہیں، جس سے سونے کی قیمت پر دباؤ آسکتا ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمت پر کیا اثر ہوگا؟

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ہونے والی تبدیلی کا اثر پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی پڑتا ہے۔ تاہم پاکستان میں سونے کی قیمت صرف عالمی نرخ سے طے نہیں ہوتی بلکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، عالمی سونے کی قیمت اور مقامی مارکیٹ میں طلب و رسد بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اگر عالمی مارکیٹ میں سونا مزید مہنگا ہوتا ہے اور پاکستانی روپیہ بھی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوتا ہے تو پاکستان میں سونے کی قیمت بڑھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عالمی قیمت میں کمی اور روپے کی قدر میں بہتری کی صورت میں مقامی مارکیٹ میں بھی سونا سستا ہوسکتا ہے۔

اسی لیے پاکستان میں سونا خریدنے والے شہریوں کی نظریں بھی عالمی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ ڈالر کے ریٹ اور مقامی صرافہ مارکیٹ کے تازہ نرخوں پر رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی صارفین کیلئے بڑا جھٹکا ، ایک دن باقی

سونا خریدنے والوں کے لیے کیا صورتحال ہے؟

ماہرین کے مطابق موجودہ معمولی کمی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ سونے کی قیمت میں بڑی گراوٹ شروع ہوگئی ہے۔ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور امریکی شرح سود سے متعلق توقعات سونے کی قیمت کو متاثر کرنے والے بڑے عوامل ہیں۔

اس لیے اگر عالمی مہنگائی کے اعداد و شمار توقعات سے مختلف آتے ہیں تو رواں ہفتے سونے کی قیمت میں تیزی یا کمی دونوں کے امکانات موجود رہیں گے۔

دیگر قیمتی دھاتیں بھی معمولی سستی

سونے کے علاوہ دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسپاٹ سلور 0.2 فیصد کمی کے بعد 63.45 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.1 فیصد کمی کے بعد 1,742.50 ڈالر جبکہ پیلاڈیم 1.1 فیصد کمی کے بعد 1,362.97 ڈالر فی اونس پر آگیا۔

مجموعی طور پر عالمی مارکیٹ میں سونے کی موجودہ معمولی کمی کے باوجود سرمایہ کاروں کی توجہ بدستور امریکا کی مہنگائی، شرح سود کے مستقبل اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مرکوز ہے، جبکہ پاکستان میں ان عالمی عوامل کا اثر مقامی سونے کی قیمت پر بھی سامنے آسکتا ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles