بحیرہ احمر میں حوثیوں کا حملہ، 3 پاکستانی جاں بحق، پاکستان کا شدید احتجاج

بحیرہ احمر میں حوثیوں کا حملہ، 3 پاکستانی جاں بحق، پاکستان کا شدید احتجاج

بحیرہ احمر میں حوثیوں کے تجارتی جہاز پر حملے کے نتیجے میں 3 پاکستانیوں سمیت 4 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے، جس پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان واقعے کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے۔

تجارتی جہاز پر حملہ، پاکستانیوں کی ہلاکت

واقعہ بحیرہ احمر کے داخلی راستے باب المندب میں پیش آیا، جہاں حوثی فورسز نے تنزانیہ کے پرچم بردار تجارتی جہاز’تہامہ ‘ کو نشانہ بنایا۔ حملے میں جہاز کے عملے کے 3 پاکستانی ارکان اور ایک انڈونیشی شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:یمنی حوثیوں کا اسرائیل سے ڈیل کرنیوالے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان

رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد امدادی کارروائی کے دوران 2 یمنی امدادی اہلکار بھی مارے گئے، جبکہ عملے اور امدادی ٹیم کے دیگر افراد زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد جہاز کا عملہ اس پر اپنا کنٹرول برقرار نہ رکھ سکا۔

اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ’ایکس ‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ انہیں حملے میں ایک پاکستانی کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی ملی ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے حملے ناقابل قبول

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان غیر جنگی تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے حملے معصوم انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور بحری جہاز رانی کی آزادی، سمندری سلامتی اور بحیرہ احمر میں تجارتی آمدورفت کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان واقعے کی مکمل تفصیلات اور اس کے حالات معلوم کرنے کے لیے سعودی حکام اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے رابطے میں ہے۔

باب المندب میں بڑھتا ہوا خطرہ

باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والا ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ خطے میں حوثیوں کے حملوں کے باعث گزشتہ عرصے میں اس راستے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب کو حوثی ملیشیا کی دھمکیاں ناقابلِ قبول، پاکستانی جہازوں پر حملے کو قومی سلامتی کا خطرہ سمجھا جائے گا، دفتر خارجہ

تازہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے اور اہم بحری گزرگاہوں کی سلامتی پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

رائٹرز کے مطابق بحیرہ احمر اور باب المندب سے گزرنے والی جہاز رانی پہلے ہی گزشتہ برسوں کے حوثی حملوں کے باعث نمایاں حد تک کم ہوچکی ہے، جبکہ حالیہ کشیدگی نے تجارتی بحری راستوں کو مزید متاثر کیا ہے۔

Related Articles