چین میں ایک 44 سالہ شخص نے بیٹی کے چیلنج کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے نہ صرف ماسٹرز کے داخلہ امتحان میں حصہ لیا بلکہ کامیابی حاصل کرکے ایم بی اے پروگرام میں داخلے کی راہ بھی ہموار کرلی۔
چین کے صوبے شانشی کے شہر شیان سے تعلق رکھنے والے زینگ زیچیانگ نے تقریباً 2 دہائیاں قبل گریجویشن مکمل کی تھی۔ وہ عام طور پر سال کے تقریباً 300 دن کام کے سلسلے میں گھر سے دور رہتے تھے، جس کے باعث ان کی بیٹی کی تعلیم اور دیکھ بھال زیادہ تر ان کی اہلیہ کی ذمہ داری تھی۔
گزشتہ برس زینگ نے اپنی دفتری مصروفیات کم کرکے 15 سالہ بیٹی کو زیادہ وقت دینے کا فیصلہ کیا۔ تاہم تعلیم کے معاملے پر دونوں کے درمیان ایک بحث ہوگئی۔
دورانِ گفتگو بیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ آج کے طلبہ کو ماضی کی نسل کے مقابلے میں زیادہ تعلیمی دباؤ کا سامنا ہے۔ اسی دوران اس نے اپنے والد کو چیلنج دے دیا کہ اگر وہ واقعی خود کو قابل سمجھتے ہیں تو ماسٹرز کے داخلہ امتحان میں حصہ لے کر دکھائیں۔
زینگ نے بیٹی کے چیلنج کو مذاق میں لینے کے بجائے اسے قبول کرلیا۔ عمر، ملازمت اور ریاضی و انگریزی میں اپنی صلاحیتیں کم ہونے کے خدشات کے باوجود انہوں نے امتحان کی تیاری شروع کردی۔ ان کی اہلیہ کو کامیابی کے حوالے سے خدشات تھے، تاہم انہوں نے شوہر کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ زینگ نے آن لائن کورسز میں داخلہ لیا اور ملازمت کے ساتھ ایک سخت مطالعاتی شیڈول ترتیب دیا۔
وہ روزانہ صبح 6 سے 9 بجے تک انگریزی پڑھتے جبکہ شام کے 5 گھنٹے ریاضی کی تیاری میں صرف کرتے تھے۔ یوں ان کی پڑھائی کا معمول روزانہ 8 گھنٹے سے بھی زیادہ ہوگیا۔ مسلسل محنت کے باعث انہیں اکثر سر درد کی شکایت بھی رہنے لگی۔ 5ماہ کی سخت تیاری کے بعد زینگ نے دسمبر 2025 میں چین کے قومی پوسٹ گریجویٹ انٹرنس امتحان میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کرلی۔
کامیابی کے بعد انہیں نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے پارٹ ٹائم ایم بی اے پروگرام میں داخلے کی پیشکش کی گئی۔ انہیں داخلے کا خط جون 2026 میں موصول ہوا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ باقاعدہ طور پر تعلیمی سفر جاری رکھیں گے یا نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ والد کی اس کوشش کا اثر ان کی بیٹی پر بھی پڑا۔ زینگ کے مطابق بیٹی نے بھی اپنی پڑھائی پر پہلے سے زیادہ توجہ دینا شروع کردی۔
زینگ کا کہنا ہے کہ بچوں کو صرف نصیحتیں کرنا کافی نہیں بلکہ والدین کو اپنے عمل سے بھی مثال قائم کرنی چاہیے۔ان کی کہانی اس بات کی ایک دلچسپ مثال بن گئی کہ کبھی کبھی بچے کی جانب سے دیا گیا ایک چیلنج بھی انسان کو اپنی صلاحیتیں دوبارہ آزمانے .اور زندگی میں کچھ نیا حاصل کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔