پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں نئے اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پارٹی نے ہمیشہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق انتظامی سطح پر چھوٹے یونٹس کے قیام کی حمایت کی ہے، تاہم موجودہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ عمران خان سے ملاقات اور ان کی رضامندی کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔
عمران خان کے مؤقف کو فیصلہ کن قرار
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے نئے صوبوں کے معاملے پر پارٹی کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی عمران خان کے نئے صوبوں سے متعلق بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں، اس کے بعد پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے دی جانے والی آرا کی وہ اہمیت نہیں رہتی جو بانی چیئرمین کے واضح مؤقف کو حاصل ہے۔
شیخ وقاص اکرم کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) نے ہمیشہ عمران خان کے وژن کے مطابق نئے اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کی ہے۔
تاہم انہوں نے ساتھ ہی واضح کیا کہ اس حساس معاملے پر عمران خان سے ملاقات میں ان کی مرضی جانے بغیر پارٹی کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
جنوبی پنجاب کا معاملہ اور سابقہ پیش رفت
واضح رہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ پاکستان کی سیاست میں کئی برس سے زیر بحث ہے، خصوصاً جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ مختلف سیاسی جماعتوں کے منشور اور سیاسی مباحث کا حصہ رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں بھی جنوبی پنجاب کے لیے علیحدہ انتظامی و سیاسی ڈھانچے کی بات سامنے آتی رہی اور جون 2019 میں پارٹی نے جنوبی پنجاب کے لیے الگ تنظیمی سیٹ اپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اسی طرح قومی اسمبلی نے 3 مئی 2012 کو جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے حق میں قرارداد منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی سے آئینی طریقہ کار کے تحت قانون سازی کا مطالبہ کیا تھا۔
قرارداد میں جنوبی پنجاب کے عوام کے سیاسی، انتظامی اور معاشی مفادات کے تحفظ کو نئے صوبے کے قیام کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا تھا۔
نئے صوبے کا قیام آسان آئینی عمل نہیں
ملک میں نئے صوبے یا کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی محض سیاسی اعلان سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے آئینی طریقہ کار پورا کرنا ضروری ہے۔
آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت ایسی آئینی ترمیم جس سے کسی صوبے کی حدود متاثر ہوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کے علاوہ متعلقہ صوبائی اسمبلی سے بھی اس کے کل ارکان کی دو تہائی اکثریت سے منظوری کی متقاضی ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی اتفاق رائے کے ساتھ ساتھ پارلیمانی اور آئینی سطح پر بھی ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔
ماضی میں جنوبی پنجاب کے حوالے سے سیاسی حمایت اور قراردادیں سامنے آنے کے باوجود عملی طور پر آئینی تقاضے مکمل نہ ہونے کے باعث نیا صوبہ قائم نہیں ہوسکا۔
پارٹی میں حتمی فیصلے کا اختیار عمران خان کے پاس
شیخ وقاص اکرم کے حالیہ بیان سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس جیسے اہم اور حساس سیاسی معاملے پر تحریک انصاف بانی چیئرمین عمران خان کے مؤقف کو بنیادی حیثیت دے رہی ہے۔
پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات اس سے قبل بھی واضح کرچکے ہیں کہ مختلف معاملات پر رہنماؤں کی آرا میں فرق کو پارٹی میں تقسیم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے اور عمران خان کے معاملے پر پارٹی قیادت کے متحد ہونے کا مؤقف رکھتے ہیں۔
نئے اور چھوٹے انتظامی یونٹس کا مطالبہ ملک میں بہتر حکمرانی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، انتظامی سہولت اور پسماندہ علاقوں کو زیادہ سیاسی و معاشی نمائندگی دینے کے دلائل کے ساتھ سامنے آتا رہا ہے۔
تاہم اس کے مخالفین صوبوں کی تعداد بڑھنے سے انتظامی اخراجات، سیاسی تقسیم اور وسائل کی تقسیم جیسے سوالات بھی اٹھاتے رہے ہیں۔
معاملہ اب عمران خان کی منظوری سے آگے بڑھے گا
تحریک انصاف کے تازہ مؤقف کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پارٹی اصولی طور پر نئے اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے تصور کی مخالف نہیں، بلکہ اسے اپنے بانی کے وژن سے ہم آہنگ سمجھتی ہے، تاہم کسی عملی پیش رفت یا سیاسی فیصلے کے لیے عمران خان کی منظوری کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
یوں نئے صوبوں کا معاملہ ایک بار پھر ملکی سیاسی بحث کے مرکز میں آ گیا ہے، لیکن اس بحث کو عملی شکل دینے کے لیے سیاسی اتفاق رائے، آئینی تقاضوں کی تکمیل اور متعلقہ صوبوں میں دو تہائی اکثریت جیسے مراحل عبور کرنا ہوں گے۔