ناروے نے امریکا ایران تنازع میں پاکستان کے اہم اور تعمیری ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں میں دونوں ملکوں نے دوطرفہ تعاون مزید بڑھانے اور خطے میں امن کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ناروے نے پاکستان کی امن کوششوں میں جہاں ممکن ہو عملی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کردی ہے۔
پاکستان کی امن سفارت کاری کو ناروے کی کھلی حمایت
اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے کے درمیان وفود کی سطح پر اہم مذاکرات ہوئے، جن میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے اور عالمی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
🔈 PR No. 2️⃣0️⃣9️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Curtain Raiser: Visit of the Norwegian Foreign Minister to Pakistan
🔗⬇️ pic.twitter.com/unWEL2b9hz
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 12, 2026
ناروے کے وزیر خارجہ نے امریکا ایران تنازع کے دوران پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے، فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کو اہم اور تعمیری قرار دیا۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور کردار کو بھی سراہا۔
یہ بھی پڑھیں:دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی فہرست جاری، پاکستان کا نمبر کونسا؟
ناروے کی جانب سے پاکستان کے کردار کی یہ تحسین اس لحاظ سے اہم ہے کہ اسلام آباد نے تنازع کے دوران واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھتے ہوئے براہ راست مذاکرات کے لیے اپنی سرزمین فراہم کی۔
اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تھے، تاہم پاکستان نے اس کے بعد بھی سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ رائٹرز کے مطابق ان مذاکرات نے فریقین کے درمیان مزید سفارت کاری کے لیے راستہ کھلا رکھا تھا۔
ناروے کی پاکستان کے لیے عملی تعاون کی پیشکش
ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے کہا کہ ناروے پاکستان کی امن کوششوں میں جہاں مفید ثابت ہوسکتا ہے، وہاں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناروے کو امن مذاکرات اور ثالثی کا وسیع تجربہ حاصل ہے جبکہ اوسلو کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ سفارتی روابط بھی موجود ہیں۔
H.E. Mr. Espen Barth Eide (@EspenBarthEide), Minister of Foreign Affairs of the Kingdom of Norway, arrived in Islamabad this morning on an official visit to Pakistan. He was received at the airport by Additional Foreign Secretary (Europe) Amb. Ayesha Ali. pic.twitter.com/Wa502xiHKD
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 13, 2026
یہ پیشکش محض رسمی سفارتی بیان تک محدود نہیں سمجھی جارہی، کیونکہ ناروے گزشتہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، آبنائے ہرمز اور بین الاقوامی بحری نقل و حرکت کے معاملات پر بھی فعال سفارتی موقف اختیار کرتا رہا ہے۔
ناروے نے اپریل میں واضح کیا تھا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور اس کی بندش کے عالمی معاشی اور انسانی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز، پاکستان اور ناروے کے مفادات
ملاقات میں آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی خصوصی اہمیت اختیار کرگیا۔ ناروے دنیا کی نمایاں بحری اقوام میں شمار ہوتا ہے، اس لیے عالمی سمندری راستوں کی سلامتی اور آزادانہ آمدورفت اس کے اقتصادی مفادات سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔
ناروے کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک بین الاقوامی بحری قانون اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات میں پاکستان کے ساتھ تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے۔
یہ تعاون مستقبل میں سمندری سلامتی، جہاز رانی، بحری قانون اور تجارتی راستوں کے تحفظ جیسے شعبوں تک پھیل سکتا ہے۔
عالمی بحری تنظیم نے بھی جون میں امریکا ایران امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں سلامتی، جہاز رانی اور آزادیِ نقل و حرکت کی بحالی کو اہم قرار دیا تھا۔
امریکا ایران تنازع میں کیا پیش رفت ہوئی؟
پاکستان کی ثالثی کا ذکر اس پس منظر میں سامنے آیا ہے جب جون 2026 میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے مفاہمتی معاہدے کا اعلان ہوا۔
ناروے سمیت متعدد ممالک نے اس سفارتی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور پاکستان، قطر اور دیگر ثالثوں کے کردار کو تسلیم کیا۔
ناروے کی حکومت کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکا ایران معاہدہ علاقائی استحکام اور عالمی معیشت کو سنبھالنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور آزادانہ بحری آمدورفت یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی معاہدے کو تنازع کے خاتمے کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے پاکستان سمیت ثالثی میں شامل ممالک کے کردار کو سراہا تھا۔
اس لیے موجودہ مرحلے میں پاکستان کی سفارت کاری کو محض جنگ بندی کے حصول تک محدود دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ اصل چیلنج اب یہ ہے کہ جنگ بندی اور مفاہمت کو پائیدار امن، مسلسل مذاکرات اور علاقائی استحکام میں تبدیل کیا جائے۔
پاکستان ناروے تعلقات میں تجارت اور سرمایہ کاری کا نیا مرحلہ
مذاکرات کا دوسرا اہم پہلو پاکستان اور ناروے کے دوطرفہ اقتصادی تعلقات تھے۔ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، قابل تجدید توانائی، تعلیم، سمندری امور اور عوامی روابط میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔<
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 held a restricted-format meeting with H.E. Mr. Espen Barth Eide @EspenBarthEide, Minister of Foreign Affairs of the Kingdom of Norway.
DPM/FM warmly welcomed Foreign Minister Espen Eide to Pakistan.… pic.twitter.com/JsWI11khxq
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 13, 2026
/h4>

