اسلام آباد پولیس نے جشنِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر سیکیورٹی اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک جامع ٹریفک ڈائیورژن پلان جاری کر دیا ہے۔
پلان کے مطابق اگست 12 کی آدھی رات سے اگست 14 کی آدھی رات تک وفاقی دارالحکومت میں بھاری گاڑیوں کے داخلے پر مکمل پابندی ہو گی جبکہ اہم شاہراہوں پر متبادل راستے فراہم کیے گئے ہیں۔
ایکسپریس وے اور فیصل ایونیو کی بندش اور متبادل روٹس
یومِ آزادی کی تقریبات کے باعث کورل چوک اور خیابان چوک کے درمیان ایکسپریس وے اور فیصل ایونیو دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:کشمیریوں کا یومِ سیاہ، عالمی برادری سے بھارتی قبضے کے خلاف عملی اقدام کا مطالبہ
کورل اور راولپنڈی سے اسلام آباد آنے والے موٹر سورس کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کھنہ برج لوپ، لہتراڑ روڈ، پارک روڈ، راول ڈیم چوک، مری روڈ، سہروردی روڈ، جناح ایونیو اور مارگلہ روڈ کا استعمال کریں۔
اس کے علاوہ کورل کی طرف جانے والے ڈرائیورز جناح ایونیو، نائینتھ ایونیو، ڈبل روڈ، مری روڈ، راول روڈ اور پرانے ایئرپورٹ روڈ سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
فیض آباد، راول ڈیم اور دیگر اہم چوراہوں کا شیڈول
فیض آباد کے اردگرد کے تمام رابطے جن میں فیصل ایونیو اور ایکسپریس وے کو ملانے والے لوپس شامل ہیں، بند رہیں گے۔ راولپنڈی سے اسلام آباد آنے والے شہری نائینتھ ایونیو، جناح ایونیو یا مری روڈ کے ذریعے راول ڈیم چوک تک جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب آئی 8، ایچ 8 اور شکرپریان کے گردونواح بشمول گارڈن فلائی اوور کے راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ رہائشیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شہر میں آمدورفت کے لیے متبادل داخلی و خارجی راستے اختیار کریں تاکہ کسی بھی زحمت سے بچا جا سکے۔
پشاور روڈ، ایئرپورٹ رسائی اور ایمرجنسی اسپتالوں کے روٹس
پشاور روڈ کے قریب کوڈیانوالہ چوک اور سرینگر ہائی وے دونوں سمتوں سے بند ہوں گے، البتہ ایئرپورٹ جانے والے مسافر مارگلہ روڈ، جناح ایونیو، پشاور موڑ فلائی اوور، سرینگر ہائی وے اور ایران ایونیو استعمال کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ پولیس نے شفا اسپتال، پمز، پولی کلینک اور سی ڈی اے اسپتال جانے والے مریضوں اور ایمرجنسی ٹریفک کے لیے خصوصی متبادل راستے بھی مقرر کیے ہیں تاکہ بروقت طبی امداد کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔
تاریخی پس منظر اور جشنِ آزادی کی اہمیت
پاکستان میں ہر سال 14 اگست کا دن انتہائی جوش و خروش اور ملی جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اسلام آباد جو کہ وفاقی دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ان تقریبات کا مرکزی نقطہ ہوتا ہے، وہاں سرکاری اور عوامی سطح پر چراغاں اور مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں:بھارت کا جبری تسلط جاری، کشمیری عوام آج پوری دُنیا میں حق خودارادیت بنا رہے، تقریبات، ریلیاں منعقد

