پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فضائی رابطے میں اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے اور سعودی عرب کی نئی ایئرلائن ریاض ایئر پاکستان کے لیے باقاعدہ پروازوں کا آغاز کرنے جارہی ہے۔
ریاض ایئر کی پاکستان کے لیے پہلی پرواز کل 14 اگست 2026 کو اسلام آباد پہنچے گی جبکہ لاہور کے لیے فضائی آپریشن 18 اگست سے شروع ہوگا۔ دستیاب تازہ رپورٹس کے مطابق اسلام آباد کے لیے روزانہ پروازیں چلانے کا منصوبہ ہے جبکہ لاہور کے لیے ہفتے میں تین پروازیں آپریٹ کی جائیں گی۔
ریاض ایئر ان پروازوں کے لیے بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیارے استعمال کرے گی جدید طیاروں کے ذریعے پاکستان اور سعودی عرب کے دارالحکومت کے درمیان براہِ راست فضائی رابطے میں مزید اضافہ ہوگا۔
ریاض ایئر سعودی عرب کی نئی قومی ایئرلائن ہے، جسے عالمی سطح پر سعودی عرب کے بڑے فضائی اور سیاحتی منصوبوں کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔ پاکستان کے لیے پروازوں کا آغاز اس کے ایشیائی نیٹ ورک کو وسعت دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حالیہ اعلان کے مطابق اسلام آباد، لاہور اور دیگر ایشیائی مقامات کے لیے ٹکٹوں کی فروخت بھی شروع کردی گئی ہے۔؎
اسلام آباد کے لیے روزانہ پرواز شروع ہونے سے پاکستان کے دارالحکومت اور ریاض کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو ایک نیا براہِ راست فضائی آپشن ملے گا۔ اس سے کاروباری افراد، سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں طلبہ اور دیگر مسافروں کے لیے سفری انتخاب میں اضافہ ہوگا۔
لاہور کے لیے ہفتے میں تین پروازوں کا آغاز بھی اہم پیش رفت ہے کیونکہ لاہور پاکستان کا ایک بڑا کاروباری اور آبادی کے لحاظ سے اہم شہر ہے۔ ریاض سے براہِ راست فضائی رابطہ دونوں شہروں کے درمیان مسافروں کی آمدورفت کو مزید آسان بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
نئی ایئرلائن کی پاکستان آمد سے ایوی ایشن، ایئرپورٹ سروسز، گراؤنڈ ہینڈلنگ ٹریول ایجنسیز اور دیگر متعلقہ شعبوں میں کاروباری سرگرمی بڑھنے کی توقع بھی کی جارہی ہے تاہم مخصوص تعداد میں نئی ملازمتوں کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی سرکاری اعداد و شمار سامنے نہیں آئے اس لیے روزگار کے مواقع میں اضافے کو ایک متوقع اثر کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
ریاض ایئر کی آمد پاکستان کی فضائی مارکیٹ میں مسافروں کے لیے مقابلے کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ نئی ایئرلائن کے داخلے سے سعودی عرب کے لیے براہِ راست پروازوں کے انتخاب میں اضافہ ہوگا اور ایئرلائنز کے درمیان مسافروں کو متوجہ کرنے کے لیے سہولیات، شیڈول اور کرایوں کے حوالے سے مقابلہ بڑھنے کا امکان ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی مضبوط سفارتی مذہبی تجارتی اور عوامی روابط موجود ہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں مقیم ہیں، جبکہ ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی عمرہ، کاروبار اور دیگر مقاصد کے لیے سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں۔ ایسے میں ریاض ایئر کا براہِ راست آپریشن دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطے کو مزید مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جاسکتا ہے۔