عمران خان مکمل صحتمند، رہائی کا فورم عدالت ہے حکومت نہیں‘، اعظم نذیر تارڑ کا پی ٹی آئی کو دو ٹوک پیغام

عمران خان مکمل صحتمند، رہائی کا فورم عدالت ہے حکومت نہیں‘، اعظم نذیر تارڑ کا پی ٹی آئی کو دو ٹوک پیغام

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی  عمران خان کا طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے جس میں وہ مکمل صحت مند پائے گئے ہیں۔ حکومت پی ٹی آئی سے سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم عمران خان کی رہائی کا فیصلہ حکومت نہیں بلکہ عدالت کرے گی۔

وزیر قانون نے پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں سینیئر ڈاکٹروں کے بورڈ نے بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی طبی معائنہ کیا ہے۔

اس سارے عمل کے دوران ان کی ہمشیرہ بھی موجود تھیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ ہمشیرہ نے خود پریس کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عمران خان ہر لحاظ سے تندرست ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا عندیہ دے دیا

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا حکم محض طبی معائنے کا تھا، انہیں اسپتال میں رکھنے کا کوئی فیصلہ نہیں سنایا گیا تھا۔ یہ جانچنا ضروری تھا کہ ان کی زندگی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو جو کہ ان کا آئینی و بنیادی حق ہے۔

مذاکرات اور احتجاجی سیاست

پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہا کہ ماضی میں مئی 2022، نومبر 2022 اور پھر 2024 میں اسلام آباد پر بار بار چڑھائی کی گئی۔

ان کا سوال تھا کہ اگر یہ پرتشدد احتجاج درست تھا تو کیا حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہتی؟ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ حکومت مذاکرات سے گریزاں نہیں، لیکن یہ بات چیت سنجیدہ ہونی چاہیے۔ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ اس کا فورم حکومت نہیں بلکہ عدالتیں ہیں۔

دارالحکومت کا تحفظ اور ریاستی عملداری

ایک سوال کے جواب میں وزیر قانون نے ملکی سلامتی اور ریاستی عملداری پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محفوظ دارالحکومت کے بغیر ایک محفوظ پاکستان کا تصور ناممکن ہے۔

عوام کے جان و مال اور جائیدادوں کا تحفظ حکومت کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے۔ بار بار کے مواقع دینے کے باوجود جب حالات درست سمت میں نہ جائیں، تو ریاست کو اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے سخت اور مؤثر فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

سیاسی و عدالتی

گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کی سیاسی فضا شدید تناؤ کا شکار رہی ہے۔ اپوزیشن جماعت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں متعدد بار احتجاجی مارچ کیے گئے ہیں، جن کا مقصد سیاسی اور قانونی مطالبات منوانا رہا ہے۔

دوسری جانب، حکومتی مؤقف مسلسل یہ رہا ہے کہ عدالتی اور قانونی معاملات کو سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا، جس کے باعث فریقین کے درمیان ایک واضح ڈیڈ لاک اور کشیدگی موجود ہے۔

حکومتی نمائندے کا حالیہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ریاست اپوزیشن کے دباؤ کو قبول کرنے اور کوئی ماورائے عدالت رعایت دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملے کی مذمت

قانونی اور آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے حکومت نے طبی معائنے کا معاملہ تو خوش اسلوبی سے حل کر لیا ہے، لیکن رہائی کا معاملہ واضح طور پر عدلیہ پر چھوڑ دیا ہے۔

اس بیانیے سے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ نظامِ عدل آزاد ہے اور سیاسی مصلحتوں کے تابع نہیں۔ اگرچہ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے، لیکن سنجیدہ بات چیت کی شرط یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت احتجاجی سیاست کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں اور قانون کی عملداری پر ہی اصرار کر رہی ہے۔

Related Articles