موبائل فون چوری یا چھیننے کا معاملہ عام طور پر کسی عام شہری سے متعلق ہوتا ہے، لیکن ہنگری میں ایک ایسا ہی معاملہ ملک کے وزیراعظم تک پہنچ گیا ہے۔
ہنگری کی پارلیمنٹ نے وزیراعظم پیٹر میگیار کا پارلیمانی استثنیٰ ختم کردیا ہے، جس کے بعد ان کے خلاف ایک موبائل فون چھیننے کے الزام کی تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔ پارلیمنٹ نے وزیراعظم کے علاوہ دو سابق وزرا کا استثنیٰ بھی ختم کیا ہے۔
یہ معاملہ جون 2024 میں بوڈاپیسٹ کے ایک نائٹ کلب میں پیش آیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق ایک شخص وزیراعظم پیٹر میگیار کی ویڈیو بنا رہا تھا، جس پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔
الزام ہے کہ پیٹر میگیار نے اس شخص کے ہاتھ سے موبائل فون چھین لیا اور بعد میں اسے دریائے ڈینیوب میں پھینک دیا۔ کلب کی سکیورٹی نے دونوں افراد کو وہاں سے باہر نکال دیا تھا۔
بعد میں پولیس کے غوطہ خوروں نے دریا سے موبائل فون تلاش کرکے نکال لیا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق فون کی مالیت تقریباً 130 سے 150 ہزار ہنگرین فورنٹ تھی اور اسے درست حالت میں مالک کو واپس کردیا گیا۔
واقعے کے بعد ہنگری کے پراسیکیوٹر جنرل نے یورپی پارلیمنٹ سے پیٹر میگیار کا استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم یورپی پارلیمنٹ نے اکتوبر 2025 میں یہ درخواست منظور نہیں کی۔
بعد میں پیٹر میگیار ہنگری کی پارلیمنٹ کے رکن بنے، جس کے بعد انہیں مقامی پارلیمانی استثنیٰ حاصل ہوگیا۔ پراسیکیوٹرز نے دوبارہ تحقیقات شروع کرنے کے لیے پارلیمنٹ سے ان کا استثنیٰ ختم کرنے کی درخواست کی۔
28 ستمبر 2026 کو ہنگری کی پارلیمنٹ نے 139 ووٹوں سے پیٹر میگیار کا استثنیٰ ختم کردیا۔ وزیراعظم نے خود بھی استثنیٰ ختم کرنے کی حمایت کی اور کہا کہ وہ قانون کے سامنے جواب دہ ہونے سے نہیں گھبراتے۔
پیٹر میگیار نے اس الزام میں کسی جرم کے ارتکاب سے انکار کیا ہے اور معاملے کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ تاہم اس وقت معاملہ تحقیقات کے مرحلے میں ہے اور ان پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔