سہیل آفریدی کا کرسی بچانے کا کھیل جاری، یعنی عمران خان اب زندگی بھر جیل میں رہیں گے؟، پی ٹی آئی دھڑوں میں تقسیم، لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز

سہیل آفریدی کا کرسی بچانے کا کھیل جاری، یعنی عمران خان اب زندگی بھر جیل میں رہیں گے؟، پی ٹی آئی دھڑوں میں تقسیم، لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد خیبر پختونخوا کی سطح پر شدید اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں، سہیل آفریدی کے بارے میں یہ زد عام ہو چکا ہے کہ انہوں نے اپنی کرسی بچانے کے لیے عمران خان کی قربانی دے دی ہے جس کے بعد یہ امکان غالب ہو گیا ہے کہ یعنی اب عمران خان ساری زندگی جیل میں ہی رہیں گے۔

سہیل آفریدی کی کرسی بچانے کی کوششیں اس وقت آشکار ہوئی ہیں جب انہوں نے اپنے عہدے کو بچانے کی کشمکش میں عمران خان کی واضح ہدایات کے باوجود پارٹی کو احتجاج سے راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر پارٹی کے اندر یہ الزام کھل کر سامنے آ گیا ہے کہ سہیل آفریدی نے اپنی کرسی اور عہدہ بچانے کے لیے بانی پی ٹی آئی کی سیاسی قربانی دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کے خلاف عدم اعتماد کب پیش ہونے جارہی ہے، شیر افضل مروت کا بڑا دعویٰ

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے سہیل آفریدی کو سخت احتجاج اور سڑکوں پر نکلنے کا واضح پیغام بھیجا گیا تھا، تاہم سہیل آفریدی سمیت دیگر پارٹی رہنما اپنی پوزیشنز کو خطرے میں ڈالنے کے بجائے مسلسل مصلحت پسندی سے کام لے رہے ہیں اور گلی کوچوں میں نکلنے سے گریزاں ہیں۔

پارٹی دھڑوں میں تقسیم اور لانگ مارچ پر اختلافات

معتبر ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ پی ٹی آئی کے متعدد سینیئر رہنماؤں نے اعلیٰ قیادت کو ’لانگ مارچ‘ فی الحال ملتوی کرنے کی باقاعدہ اور تحریری تجویز دی ہے۔

اس پیشرفت نے صوبے میں حکمران جماعت کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک طرف وہ نظریاتی کارکنان ہیں جو عمران خان کی رہائی کے لیے فوری اور مؤثر تحریک چلانا چاہتے ہیں، تو دوسری جانب وہ حکومتی عہدیدار ہیں جن کی تمام تر توجہ اپنے اقتدار کو طول دینے پر مرکوز ہے۔

عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے متعدد بار احتجاجی تحریکوں کی تاریخیں دی گئی ہیں۔ خیبر پختونخوا، جہاں پی ٹی آئی کو واضح عوامی اور حکومتی مینڈیٹ حاصل ہے، ہمیشہ سے اس احتجاجی حکمت عملی کا مرکز سمجھا جاتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:سہیل آفریدی کا ٹاسک صرف خیبر پختونخوا میں لوٹ مار ہے، ان کی ناکامیوں پر جلد ’وائٹ پیپر‘ لائیں گے، امیر مقام

تاہم حالیہ چند مہینوں میں صوبائی قیادت کی خاموشی اور جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کے جارحانہ بیانیے کے درمیان ایک واضح خلیج پیدا ہو چکی ہے۔

موجودہ حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو اقتدار کی راہداریوں اور قید خانے کے مفادات واضح طور پر ایک دوسرے سے ٹکراتے دکھائی دے رہے ہیں۔

سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے لانگ مارچ سے پیچھے ہٹنے کا سیدھا مطلب یہ نکالا جا رہا ہے کہ دباؤ بڑھا کر رہائی حاصل کرنے کا کھیل اب عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔

جب ایک سیاسی جماعت کی فرنٹ لائن قیادت سڑکوں پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کا سامنا کرنے کے بجائے پُرآسائش حکومتی عہدوں کے تحفظ کو ترجیح دینے لگے، تو اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ قید میں موجود قائد طویل عرصے یا شاید زندگی بھر کے لیے جیل کی سلاخوں تک محدود ہو کر رہ جائے۔

یہ طرزِ عمل اس تلخ حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں نظریاتی جدوجہد کی جگہ بالآخر ذاتی اور سیاسی مفادات لے لیتے ہیں۔

Related Articles