خیبر پختونخوا میں کھربوں روپے کا میگا کرپشن اسکینڈل، صوبائی حکومت بچانے کے لیے وزیر اعلیٰ کا فرنٹ مین ’پتنگ ہادی‘ راتوں رات دبئی فرار

خیبر پختونخوا میں کھربوں روپے کا میگا کرپشن اسکینڈل، صوبائی حکومت بچانے کے لیے وزیر اعلیٰ کا فرنٹ مین ’پتنگ ہادی‘ راتوں رات دبئی فرار

خیبر پختونخوا میں کھربوں روپے کے ترقیاتی ٹھیکوں میں کرپشن کا ہوشربا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد صوبائی حکومت کے خاتمے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

گرفتاری سے بچنے اور حکومت کو ممکنہ بحران سے نکالنے کے لیے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے فرنٹ مین عبدالہادی عرف ’پتنگ ہادی‘ کو راتوں رات دبئی فرار کروا دیا ہے۔

پشاور سے سینیئر صحافی عرفان خان  نے اپنی خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے محکمہ مواصلات و تعمیرات میں ٹھیکوں اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر خورد برد کے حقائق سامنے آئے ہیں۔ اس میگا اسکینڈل کے بے نقاب ہونے کے بعد صوبائی کابینہ میں شدید بے چینی اور خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔

 ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس ڈر سے کہ ان کا ماموں زاد بھائی اور فرنٹ مین عبدالہادی عرف ’پتنگ ہادی‘ قانون کی گرفت میں نہ آ جائے، اپنے سرکاری وسائل اور اثر و رسوخ کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے دبئی فرار کروا دیا ہے۔ صحافی عرفان خان کے مطابق سہیل آفریدی نے انتہائی پراسرار انداز میں کرپشن کے اسکینڈل کے اس اہم ترین کردار کو ملک سے باہر نکال دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی انتظامیہ غافل، خیبر کا ایک اور سرکاری اسکول زبوں حالی کا شکار، 200 طلبہ کے لیے صرف 2 اساتذہ

حکومتی ایوانوں میں یہ خوف شدت اختیار کر گیا تھا کہ اگر یہ کلیدی کردار گرفتار ہو گیا تو کئی بااثر سیاسی شخصیات کے چہرے بے نقاب ہوں گے، جس کے نتیجے میں موجودہ صوبائی حکومت کا دھڑن تختہ بھی ہو سکتا ہے۔

لیپ ٹاپ کے تہلکہ خیز راز اور روپوش کردار

اس لرزہ خیز پیش رفت کی بنیادی وجہ وہ لیپ ٹاپ بنا جو ایک برطرف پراجیکٹ مینیجر سے قبضے میں لیا گیا تھا۔ اس اہم ترین ڈیوائس میں اربوں روپے کے کمیشن، ٹھیکوں کی  بندر بانٹ اور ’پتنگ ہادی‘ کی براہ راست مداخلت کے ناقابل تردید شواہد موجود تھے۔

جونہی ان شواہد کی بھنک اعلیٰ حکام تک پہنچی اور تحقیقات کا گھیرا تنگ ہونے لگا، تو کرپشن کی کڑیوں کو وزارت تک پہنچنے سے روکنے کے لیے فوری اقدام کیا گیا۔

واضح رہے کہ انکوائری اور قانونی کارروائی کا راستہ مسدود کرنے کے لیے اس سے قبل اسی کرپٹ پراجیکٹ مینیجر کو بھی طور پر روپوش کروایا جا چکا ہے۔

اندرونی بغاوت اور خاندانی نوازشات

واضح رہے کہ اس میگا اسکینڈل نے جہاں بیرونی محاذ پر مشکلات کھڑی کی ہیں، وہیں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی جڑیں بھی ہلا کر رکھ دی ہیں۔

پارٹی کے اندر خاندانی نوازشات اور اقربا پروری کے خلاف شدید بغاوت جنم لے چکی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ضلع خیبر کے اربوں روپے کے پراجیکٹس پر سہیل آفریدی کے سگے بھائی نوید آفریدی کے قبضے کی وجہ سے رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی شدید ناراض ہو گئے تھے۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخواہ میں آزاد صحافت کا گلا گھونٹنے کی آخری کوشش ، سہیل آفریدی کی سرکاری افسران کو تین دن میں میڈیا ہاوسز کے خلاف قانونی کاروائی کی ہدایت

اس بغاوت کو دبانے اور ایم پی اے کو منانے کے لیے صوبائی وزیر کو خود ان کے پاس جا کر معافی مانگنی پڑی تھی۔

سیاسی ڈھانچے کے انہدام کا خطرہ

’پتنگ ہادی‘ کے اچانک دبئی فرار ہونے سے پارٹی کے اندرونی حلقوں، اپوزیشن اور تحقیقاتی اداروں میں یہ تاثر مزید پختہ ہو گیا ہے کہ اس کھربوں روپے کے کرپشن اسکینڈل نے وزیر اعلیٰ علی سہیل آفریدی کی حکومت کی بقا کے لیے ایک فوری اور سنگین خطرہ کھڑا کر دیا ہے۔

اس نوعیت کے مالیاتی اسکینڈلز اور فرنٹ مینوں کا راتوں رات ملک سے فرار ہونا اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ صوبے کے انتظامی اور احتسابی میکانزم میں گہرے اور منظم سقم موجود ہیں۔

جب ترقیاتی فنڈز، بالخصوص عالمی اداروں کے فراہم کردہ وسائل میں اس پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آتے ہیں، تو اس سے نہ صرف صوبائی حکومت کا شفافیت کا بیانیہ زمین بوس ہوتا ہے بلکہ مستقبل کی مالی معاونت پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔

اندرونی اختلافات، خاندانی اجارہ داری اور کرپشن کے ان سنگین الزامات نے موجودہ صوبائی سیٹ اپ کو ایک ایسے نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں احتساب کے شکنجے کی ایک چھوٹی سی حرکت بھی پورے سیاسی ڈھانچے کے انہدام کا باعث بن سکتی ہے۔

Related Articles