آزاد ڈیجیٹل نے آئینہ دکھایا تو برا مان گئے، سہیل آفریدی نے سوال کا جواب دینے کے بجائے صحافی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

آزاد ڈیجیٹل نے آئینہ دکھایا تو برا مان گئے، سہیل آفریدی نے سوال کا جواب دینے کے بجائے صحافی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ایک بار پھر آزاد ڈیجیٹل کے صحافی کے سوال پر برہم ہوگئے، سیاسی دعوے سے متعلق سوال کا جواب دینے کے بجائے انہوں نے صحافی کے ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور واضح طور پر کہا کہ وہ آزاد ڈیجیٹل کے سوالات کا جواب نہیں دیتے، اس موقع پر ان کا لہجہ بھی سخت ہوگیا اور سوال کے مندرجات پر جواب دینے کے بجائے صحافی اور اس کے ادارے سے متعلق ریمارکس دیے گئے۔

دس ہزار بندہ اکٹھا نہیں ہوتا، بیس لاکھ کی بات کیوں؟”

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران آزاد ڈیجیٹل کے نمائندے وسیم ہاشمی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے سوال کیا کہ دس ہزار بندہ اکٹھا نہیں ہوتا اور آپ بیس لاکھ کی بات کر رہے ہیں؟

سوال کا براہِ راست جواب دینے کے بجائے سہیل آفریدی نے صحافی سے اس کے ادارے کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے کہا کہ بھائی آپ سامنے آئیں، آپ کون سے چینل سے ہیں؟

وسیم ہاشمی نے جواب دیا کہ وہ آزاد ڈیجیٹل سے وابستہ ہیں، ادارے کا نام سنتے ہی وزیراعلیٰ کا ردعمل تبدیل ہوگیا اور انہوں نے کہا، آزاد والے سارے غلام ہیں، میں سوال کا جواب دیتا ہی نہیں،یوں سیاسی دعوے کی بنیاد سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب سامنے نہ آسکا، جبکہ گفتگو کا رخ صحافی اور اس کے ادارے کی جانب موڑ دیا گیا۔

آزاد ڈیجیٹل سے متعلق سخت رویہ پہلی بار نہیں

یہ پہلا موقع نہیں جب آزاد ڈیجیٹل کے نمائندوں کو پی ٹی آئی قیادت سے سوالات کے دوران اس نوعیت کے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہو،اس سے قبل بھی آزاد ڈیجیٹل کے صحافی طیب بلوچ، عامر ہاشمی اور دیگر نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات پر بعض پی ٹی آئی رہنماؤں نے جواب دینے کے بجائے ادارے کے حوالے سے تنقیدی ریمارکس دیے اور اسے مختلف القابات سے مخاطب کیا۔

حالیہ واقعے میں بھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے سوال کے موضوع پر اپنا موقف پیش کرنے کے بجائے صحافی کے ادارے کو ہدفِ تنقید بنایا، جس سے آزاد ڈیجیٹل کے ساتھ ان کے رویے کا معاملہ ایک بار پھر نمایاں ہوگیا۔

صحافی سوال کرتے رہے، یوٹیوبرز کو ترجیح

میڈیا ٹاک کے دوران موقع پر موجود متعدد صحافی وزیراعلیٰ سے سوالات کرنے کی کوشش کرتے رہے، تاہم سہیل آفریدی اپنے ساتھ موجود یوٹیوبرز کے سوالات کو ترجیح دیتے دکھائی دیے،اسی دوران ایک صحافی نے وزیراعلیٰ سے سوال کیاسہیل آفریدی صاحب، ملاقات کا وقت ختم ہوگیا، اب آئے ہیں تو ملاقات کیسے ہوگی؟

اس پر وزیراعلیٰ نے جواب دیا، آپ سب جتنے بھی لائے گئے ہیں، سب کے سوالات کا جواب دوں گا،تاہم اس کے فوراً بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے صحافیوں کو پیچھے کردیا، جس کے باعث سوال و جواب کا سلسلہ متاثر ہوگیا۔

editor

Related Articles