وفاقی حکومت اور حکومت سندھ کے ساتھ مذاکرات میں گڈز ٹرانسپورٹرز کے مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کے بعد آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے آج سے ملک گیر غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان نے کہا ہے کہ وفاقی اور سندھ حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے، حکومتوں کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا، اس لیے ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ برقرار ہے۔
ملک شہزاد اعوان نے کہا ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز آج ہفتہ 8 اگست سے ملک بھر میں ہڑتال شروع کر رہے ہیں اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کے مطالبات پر قابل عمل پیش رفت نہیں ہوتی۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کے وفد سے ہونے والے مذاکرات میں وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر مواصلات، سیکریٹری مواصلات، چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور انسپکٹر جنرل موٹروے پولیس شریک ہوئے۔
حکومت سندھ کی جانب سے کمشنر کراچی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ، سیکریٹری ایکسائز، ڈی آئی جی ٹریفک، ڈی آئی جی ڈرائیونگ لائسنس، پی ٹی اے اور آر ٹی اے کے سیکریٹریز نے مذاکرات میں شرکت کی۔
ملک شہزاد اعوان نے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں گڈز ٹرانسپورٹرز کے دیرینہ مطالبات اور مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی، تاہم کسی ایسے حل پر اتفاق نہیں ہوسکا جس سے ٹرانسپورٹرز مطمئن ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز اپنے مطالبات کے حل کے لیے طویل عرصے سے حکومت سے مذاکرات کر رہے ہیں لیکن معاملات کو عملی طور پر حل کرنے کے بجائے صرف یقین دہانیوں تک محدود رکھا گیا۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال کے باعث ملک بھر میں مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال طویل ہونے کی صورت میں اشیائے ضروریہ، صنعتی خام مال اور دیگر سامان کی ترسیل بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
ملک شہزاد اعوان نے واضح کیا کہ حکومتوں کی جانب سے مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جانے تک ٹرانسپورٹرز اپنے ہڑتال کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد اپنے ملک گیر ہڑتال کے اعلان پر قائم ہے اور آج سے شروع ہونے والا احتجاج غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔