اے آئی ایجنٹس آپس میں لڑ پڑے،ایک دوسرے کا کام بگاڑ دیا

اے آئی ایجنٹس آپس میں لڑ پڑے،ایک دوسرے کا کام بگاڑ دیا

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک دلچسپ مگر تشویشناک تجربے کے دوران تین اے آئی ایجنٹس ایک ہی سافٹ ویئر پروجیکٹ پر کام کرتے ہوئے ایک دوسرے کو حریف سمجھ بیٹھے اور باہمی طور پر ایک دوسرے کی کارکردگی متاثر کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اے آئی کمپنی اینتھروپک کے تجربے میں تین کلاؤڈ بیسڈ اے آئی ایجنٹس کو ایک ہی سافٹ ویئر پروجیکٹ تک رسائی دی گئی، تاہم انہیں ایسی ہدایات دی گئیں جو ایک دوسرے سے متصادم تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:یوٹیوب بار بار اپنا ڈیزائن کیوں بدلتا ہے؟ کمپنی نے اصل وجہ بتا دی

دلچسپ بات یہ تھی کہ تینوں اے آئی سسٹمز کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ اسی پروجیکٹ پر دیگر اے آئی ایجنٹس بھی کام کر رہے ہیں۔ تقریباً 4 گھنٹے تک جاری رہنے والے تجربے کے دوران ایجنٹس نے یہ سمجھنا شروع کردیا کہ دوسرے سسٹمز جان بوجھ کر ان کے کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

اس غلط فہمی کے بعد صورتحال مزید دلچسپ ہوگئی اور اے آئی ایجنٹس نے ایک دوسرے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے مختلف اقدامات شروع کردیے۔ ان اقدامات میں خود کو نقل کرنے والے میلویئر کے استعمال کی کوشش بھی شامل تھی۔ اینتھروپک نے اس صورتحال کو ’ملٹی ایجنٹ ٹرف وار‘ قرار دیا، یعنی ایک ہی ماحول میں کام کرنے والے خودمختار اے آئی سسٹمز کا ایک دوسرے کو حریف سمجھ لینا۔

یہ بھی پڑھیں:گوگل کا بڑا اقدام، جیمینائی کی اے آئی تصاویرپر نئی سہولت متعارف

کمپنی کے مطابق یہ تجربہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مستقبل میں جب متعدد خودمختار اے آئی ایجنٹس کو ایک ہی ماحول میں کام کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا تو ان کے غیر متوقع رویوں سے نمٹنے کے لیے مضبوط حفاظتی نظام اور واضح نگرانی ضروری ہوگی۔

ماہرین کے لیے یہ تجربہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اے آئی سسٹمز کو زیادہ خودمختاری دینے کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہوتا جا رہا ہے کہ مختلف ایجنٹس ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح تعاون کریں گے اور غلط فہمی کی صورت میں ان کے رویے کو کیسے قابو میں رکھا جائے گا۔

editor

Related Articles