وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ کے مشترکہ دفاعی معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متزلزل حمایت کو تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے نے نہ صرف سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں ایٹمی تنازع کے خطرے کو ٹالنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم نے ٹرمپ کی ’جرات مندانہ قیادت‘ کو سراہتے ہوئے پائیدار امن کو عوام کی خوشحالی کی بنیادی شرط قرار دیا۔
مکہ معاہدہ، اتحاد یا دفاعی حکمت عملی؟
وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مکہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ صرف ایک رسمی دستاویز نہیں بلکہ پوری خطے کی سلامتی کے لیے ایک نئی سوچ کا آئینہ دار ہے۔
Deeply appreciate President Donald Trump’s kind words of support on the signing of the Makkah Joint Defence Agreement.
Together with the brotherly Kingdom of Saudi Arabia and the Republic of Turkiye, Pakistan will continue to play a constructive role in ensuring the defence of… pic.twitter.com/qdemVBYkLq
انہوں نے اس معاہدے کو ’اسلامی ممالک کے درمیان ہم آہنگی کی اعلیٰ مثال‘ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا یہ مثلثی اتحاد موجودہ جغرافیائی سیاسی چیلنجوں کا مؤثر جواب ہے۔
انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ کی حکمت عملی نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران ایٹمی تصادم کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس سے لاکھوں انسانی جانوں کو تحفظ ملا۔
کب اور کیوں ہوا یہ معاہدہ؟
واضح رہے کہ مکہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ گزشتہ سال سعودی عرب کے زیر اہتمام طے پایا تھا، جس کا مقصد خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے مقابلے میں دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا تھا۔
اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک مشترکہ فوجی مشقیں، انٹیلیجنس شیئرنگ اور دفاعی صنعتوں میں تعاون کریں گے۔ پاکستان نے اس معاہدے کو اپنی ’پروجیکٹر پاور‘ کی حکمت عملی کا حصہ بنایا، جبکہ ترکیہ اور سعودی عرب نے اسے مغربی ممالک سے دوری اور خود انحصاری کی طرف ایک قدم قرار دیا۔
علاقائی سلامتی پر اثرات
وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق یہ معاہدہ خلیج اور جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ’گیم چینجر‘ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی پالیسی میں کوئی جارحانہ عزائم نہیں رکھتا، بلکہ وہ خطے میں استحکام کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اس معاہدے کے ذریعے تینوں ممالک دہشت گردی، سمندری ڈکیتی اور سائبر حملوں جیسے غیر روایتی خطرات کا بھی مقابلہ کر سکیں گے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ معاشی ترقی اور سماجی فلاح کے لیے امن و استحکام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان امن عمل، کشمیر تنازع اور توانائی کے راستوں کی حفاظت جیسے معاملات پر ہمیشہ تعمیری کردار ادا کیا ہے اور مکہ معاہدہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ دوہرے معیار کو ترک کر کے خطے کے ممالک کی خودمختاری اور دفاعی ضروریات کا احترام کرے۔
کیا یہ معاہدہ نیا ’سیکسٹ سنٹم‘ بن سکتا ہے؟
واضح رہے کہ یہ معاہدہ خود ان تینوں اسلامی ممالک کی جانب سے ایک علیحدہ دفاعی شناخت کا اعلان بھی ہے۔ تاہم، اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار تینوں ممالک کی اندرونی سیاسی استحکام، معاشی وسائل اور عوامی حمایت پر ہوگا۔
پاکستان کے لیے یہ معاہدہ اس کی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اسے بھارت اور افغانستان کے ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔