وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے عدالت سے وضاحت آنا ضروری ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد میں کوئی مسئلہ نہیں، لیکن فیصلے کی وضاحت سامنے آنا ضروری ہے، وضاحت آنے کے بعد عدالتی حکم پر عملدرآمد کردیا جائے گا۔
مخصوص حالات کی وضاحت ضروری
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عدالت سے یہ وضاحت آنی چاہیے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مخصوص حالات کے لیے کیا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ وضاحت آنے کے بعد حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرے گی،انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے علاج سے حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں، ان کی صحت اور علاج کے معاملے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
سیکیورٹی انتظامات میں وقت لگ سکتا ہے
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے سیکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں، اگر دو روز میں سیکیورٹی انتظامات مکمل نہ ہوسکے تو مزید مہلت کے لیے عدالت سے درخواست کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں :عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی تیاریاں تیز، اڈیالہ جیل انتظامیہ کو عدالتی حکم پر عملدرآمد کا مراسلہ
انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے جس حصے کو جیل قرار دیا جائے گا، وہاں ضروری سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان کا علاج بھی ہوسکے اور سیکیورٹی کے تقاضے بھی پورے کیے جاسکیں۔
بنی گالا کو سب جیل قرار نہیں دیا جائے گا
رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے میں بنی گالا کو سب جیل قرار نہیں دیا جائے گا،ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ہسپتال کے مخصوص حصے میں رکھا جائے گا جسے جیل قرار دینے کے حوالے سے انتظامات کیے جائیں گے، تاہم بنی گالا کو سب جیل بنانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔
بلاول بھٹو کے بیان پر ردعمل
بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان پر کہ ال میں کچھ کالا ہےرانا ثناء اللہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر دال میں کچھ کالا ہے تو اسے نکال کر باہر پھینک دیں گے،انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کو دال میں کچھ کالا نظر آرہا ہے تو وہ اسے نکال کر باہر کردیں گے۔
بیک چینل رابطوں کی تردید
رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بیک چینل رابطوں کی بھی تردید کی،ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی یا بشریٰ بی بی کا اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بیک چینل رابطہ نہیں ہے۔
فیصلے کا بیک ڈور رابطوں سے تعلق نہیں
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کو ریلیف ملے گا اور حکومت عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرے گی،انہوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ کسی بیک ڈور چینل یا خفیہ رابطے کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ عدالت نے اپنے سامنے موجود معاملے پر فیصلہ دیا ہے،ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عمران خان کے علاج سے کوئی مسئلہ نہیں، تاہم عدالتی فیصلے کی وضاحت اور سیکیورٹی انتظامات مکمل ہونا ضروری ہیں۔

