وسطی افریقی جمہوریہ کی مغربی سرحد کے قریب کیمرون سے ملحقہ علاقے زیمبوئے میں سونے کی ایک کان بیٹھ جانے کے المناک حادثے میں 100 سے زیادہ مزدور ہلاک ہو گئے۔
اس ہولناک سانحے نے ایک بار پھر غیر قانونی اور غیر محفوظ کان کنی کے خطرناک طریقوں پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
حادثے کے بعد مقامِ وقوع پر امدادی کارروائیاں جنگی بنیادوں پر جاری ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور رضاکار ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ کیمرون کی حکومت نے بھی انسانی ہمدردی کے تحت زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
حادثے کی وجوہات
ابتدائی تحقیقات کے مطابق زیمبوئے کا یہ مقام روایتی اور دستی (آرٹیزنل) کان کنی کے لیے استعمال ہوتا تھا، جہاں حفاظتی اصولوں کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔
زمین بیٹھنے اور سرنگیں گرنے کے اس طرح کے حادثات اس معدنیات سے مالامال خطے میں پہلے بھی پیش آ چکے ہیں، جن کے محرکات کا تعین کرنے کے لیے پبلک پراسیکیوٹر آفس نے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
لاپرواہی یا نظامی ناکامی؟
یہ سانحہ محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ ریاستی غفلت اور کمزور نگرانی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ جب تک غریب ممالک میں روزگار کے نام پر انسانی جانوں سے یوں کھیلا جاتا رہے گا، اس طرح کے دلخراش مناظر دیکھنے کو ملتے رہیں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ کان کنی کے شعبے میں سخت ضابطہ اخلاق نافذ کیا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا یہ زیاں روکا جا سکے۔