نانا پاٹیکر کی موت سے پہلے کہے گئے الفاظ نے مداحوں کو آبدیدہ کر دیا

نانا پاٹیکر کی موت سے پہلے کہے گئے الفاظ نے مداحوں کو آبدیدہ کر دیا

بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال سے چند روز قبل گوا میں ایک تقریب کے دوران کی گئی گفتگو سامنے آگئی، جس میں انہوں نے زندگی اور موت کے بارے میں اہم باتیں کی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق نانا پاٹیکر نے 4 اکتوبر کو گوا کے شہر پناجی کے قریب ڈونا پاؤلا میں سمراٹ کلب انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ایک سماجی تقریب میں شرکت کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے زندگی کی حقیقت، موت اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنے کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نانا پاٹیکر نے کہا کہ ہم سب کو ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ انہیں بھی معلوم نہیں کہ اگلے دن وہ یہاں موجود ہوں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں یہ وقت ہر انسان پر آتا ہے، لیکن اس سے پہلے ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم وہ سب کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے پوری کوشش کی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:مسٹر بین کی 40 سال بعد اسٹیج پر واپسی، مداحوں کے لیے بڑی خوشخبری

اداکار کے انتقال کے بعد ان کی یہ گفتگو سوشل میڈیا پر زیر بحث آگئی ہے اور مداح ان کے الفاظ کو یاد کرتے ہوئے جذباتی ردعمل دے رہے ہیں۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق نانا پاٹیکر کا گوا میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوا۔ ان کی اچانک موت پر بھارتی فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور مداحوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔

گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے بھی اداکار کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نانا پاٹیکر کی تھیٹر، ہندی اور مراٹھی سینما میں خدمات، ان کی جاندار اداکاری اور منفرد فن نے بھارتی سینما پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔

نانا پاٹیکر نے 4 اکتوبر کی تقریب میں گوا کے سابق وزیر اعلیٰ اور اپنے قریبی دوست منوہر پریکر کو بھی یاد کیا تھا۔ انہوں نے انہیں ایک عظیم انسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی ایک مشن کے طور پر گزاری۔

اداکار نے اس بات پر زور دیا کہ زندگی میں بامقصد کام کرنے کے لیے مضبوط عزم اور مسلسل کوشش ضروری ہے۔ اپنی منفرد اداکاری، بے باک انداز اور سماجی خدمات کے باعث نانا پاٹیکر بھارتی سینما میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی زندگی سے متعلق گفتگو اور خیالات ایک بار پھر مداحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

editor

Related Articles