پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پشاور پہنچ کر دم توڑ گیا، کبوتر چوک کا آخری پڑاؤ خالی، وزیراعلیٰ اور قیادت غائب!

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پشاور پہنچ کر دم توڑ گیا، کبوتر چوک کا آخری پڑاؤ خالی، وزیراعلیٰ اور قیادت غائب!

سیاست میں نعرے بازی، جذباتی تقریریں اور بڑے بڑے دعوے کسی بھی تحریک کو عارضی طور پر گرمانے کا سبب تو بن سکتے ہیں، لیکن جب منزل کا تعین حکمت، عوامی مفاد  کے بجائے  صرف شو بازی پر ہو، تو انجام اس سے مختلف نہیں ہوتا جو حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نام نہاد “لانگ مارچ” کا ہوا جو پشاور پہنچ کر دم توڑ گیا ہے ۔

پشاور کے کبوتر چوک میں جو مناظر دیکھنے میں آئے، وہ درحقیقت اس طرزِ سیاست کا منہ بولتا ثبوت ہیں جو ہوائی قلعے تعمیر کرنے پر تو ماہر ہے، مگر زمینی حقائق کا سامنا کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔

جوش خطابت بمقابلہ زمینی حقیقت

لانگ مارچ پانچویں روز میں داخل ہوچکا ہے  لیکن عوامی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے ،   ایک طرف قیادت کے بلند بانگ دعوے تھے کہ نظام کی چولیں ہلا دی جائیں گی، حکومت کی نیندیں حرام کر دی جائیں گی، اور دوسری طرف حالت یہ تھی کہ کبوتر چوک، جو اس طویل سفر کا آخری پڑاؤ ہونا تھا، ویران اور خالی پڑا ہے ، اور پشاور میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔

حیران کن طور پر لانگ مارچ کے گنے چنے کارکنان کی امیدیں اس وقت مایوسی میں بدل گئیں جب انہیں معلوم ہوا کہ جن رہنماؤں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے وہ سڑکوں پر خوار ہو رہے تھے، وہ خود منظرِ عام سے غائب تھے۔

یہ بھی پڑھیں : صوبہ معاشی دلدل میں، عوام فاقوں پر ! سہیل آفریدی کے لانگ مارچ میں شاہانہ ضیافتوں اور وسائل کی لوٹ مار کا پردہ فاش

یہاں یہ  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو قیادت اپنے ہی کارکنوں کو آگے دھکیل کر خود پردۂ پسِ منظر میں چلی جائے، اسے کس منہ سے “عوامی نمائندہ” کہا جا سکتا ہے؟ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر صفِ اول کے رہنماؤں کا کبوتر چوک کے آخری پڑاؤ پر موجود نہ ہونا اس بات کا واضح اعتراف تھا کہ اس مارچ کا مقصد کوئی حقیقی ایجنڈا نہیں بلکہ صرف سیاسی ڈھکوسلے اور قیدی کی رہائی کیلئے توجہ  حاصل کرنا تھا، اس  سے قبل بھی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کئی مواقع پر بھاگنے کا ریکارڈ بنا چکے ہیں ،  جب مشکل وقت آیا اور فیصلہ کن معرکے کا وقت تھا، تو قیادت نے فرار کو غنیمت جانا۔

اس پورے عمل میں اگر کسی کا نقصان ہوا ہے، تو وہ غریب عوام ہے جو ایک طرف تو اس نااہل حکومت کی ٓکارکردگی سے پریشان ہے وہیں روزی روٹی کی دوڑ دھوپ اور بنیادی سہولیات سے وزیراعظم کی چشم پوشی سے تنگ بھی ہے ۔

پشاور کے خالی میدان، بے یارومددگار قیادت، اور کھوکھلے نعروں کی راکھ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کی صفوں میں نظم و ضبط اور سنجیدہ سیاسی حکمت عملی کا شدید فقدان ہے ، انہیں احتجاج کرنے کا شوق ہے مگر لوگوں سے ان کا تعاون ، ان کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ،  احتجاجی سیاست کا ایک اصول ہوتا ہے کہ قیادت ہمیشہ ہراول دستے میں رہتی ہے، لیکن یہاں ہراول دستہ تو کجا، پچھلی صفیں بھی خالی تھیں۔

پی ٹی آئی کا یہ لانگ مارچ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ محض جذبات کے بل بوتے پر ریاست اور نظامِ حکومت کو نہیں چلایا جا سکتا ، جب آپ کے پاس کوئی متبادل معاشی یا سیاسی روڈ میپ نہ ہو، اور آپ کی سیاست صرف دھرنوں، مارچوں اور اسٹیج کی اداکاری تک محدود ہو، تو کبوتر چوک کے میدانوں کی طرح آپ کے دعوے بھی ایک دن ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔

پشاور کا یہ منظر اس سیاسی تماشے کا انجام ہے، جہاں نعرے بڑے تھے مگر کردار چھوٹے نکلے۔

سیاسی منظر نامے کے موجودہ حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے بعد محض بیانیے کی بنیاد پر عوامی جوش و خروش کو سڑکوں پر لانا ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے خیبرپختونخوا میں حکمران جماعت کو اقتدار مخالف رجحانات کا سامنا ہے۔

 مزید پڑھیں:نہ ٹینٹ، نہ کرسیاں اور نہ سایہ، ضلعی عہدیداروں کے بلند و بانگ دعوے ٹھس، پی ٹی آئی لانگ مارچ کی ’گنڈی چوک‘ میں ہی ہوا نکل گئی

معاشی چیلنجز اور روزگار کے مواقع پیدا نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان ووٹرز کی توقعات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے ، مزید برآں، تنظیم کے اندرونی اختلافات اور فیصلہ سازی کا ابہام اس احتجاجی تحریک کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔
اگر سیاسی حکمتِ عملی اور تنظیمی ڈھانچے میں یہی انتشار برقرار رہا، تو مستقبل قریب میں اس قوت کے لیے اپنی عوامی مقبولیت اور سیاسی بقا کو برقرار رکھنا ایک انتہائی سنگین چیلنج بن جائے گا۔

editor

Related Articles