حَلفاً کہتا ہوں کہ عمران خان کو صحت کا کوئی مسئلہ نہیں ، خواجہ آصف

حَلفاً کہتا ہوں کہ عمران خان کو صحت کا کوئی مسئلہ نہیں ، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ حلفا کہہ سکتا ہوں کہ عمران خان کو صحت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔

قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس  میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ عدالت کے حکم پر بانی تحریک انصاف عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا گیا اس موقع پر ان کی بہن عظمیٰ خان جو کہ خود بھی ڈاکٹر ہیں ، موجود تھیں ، ڈاکٹرز نے انہیں مکمل صحتمند قرار دیا اور انہیں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ویڈیو کی بات کرتے ہیں ، قومی اور عالمی سطح پر نوازشریف ، کلثوم نواز کی صحت کا مذاق اڑایا گیا ، اگر آپ اجازت دیں تو ساری ویڈیو ڈسپلے کرسکتاہوں ، بانی پی ٹی آئی نے امریکاکے جلسوں میں تمسخر اڑایا ، ہم کبھی یہ نہیں کہا کہ مریم نوازقید ہیں  توہم بھی ایسا کریں گے ۔

قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے تصدیق کی ہے کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کا طبی معائنہ پمز ہسپتال میں ہوا جس میں شفا انٹرنیشنل کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے لکھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قیدی کو 20 اور 21 اگست 2026 کی درمیانی شب مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت ہسپتال لے جایا گیا۔

عطا تارڑ کے مطابق ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا ۔

یہ بھی پڑھیں :عمران خان کا طبی معائنہ پمز ہسپتال میں ہوا جس میں شفا انٹرنیشنل کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے ، عطاتارڑ

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان طبی معائنے اور علاج کے تمام مراحل کے دوران موجود رہیں، یہ تمام عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں آج صبح تقریباً پانچ بجے اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا ہے۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ طبی معائنہ پمز ہسپتال میں کرایا گیا جس میں الشفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے ، اس موقع پر پی ٹی ائی کے کارکنوں کی طرف سے جو سیکیورٹی کی صورتحال الشفا ہسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی ، اس کے پیش نظر ان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے مطابق وہ صحت مند پائے گئے۔

ان کاکہنا تھا کہ ان کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی جب ان کو ضرورت پڑے گی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

editor

Related Articles