ایران امریکہ سے درست معاہدے کے لیے تیار نہیں ، امریکہ

ایران امریکہ سے درست معاہدے کے لیے تیار نہیں ، امریکہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اختلافات کے باوجود امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن  ایک ’’درست معاہدے‘‘ کے لیے ابھی تیار نہیں۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز سے جنوبی کیرولائنا کے شہر مرٹل بیچ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن ان کی رائے میں وہ ایسا معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں جسے امریکا درست سمجھتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کا ایران کیخلاف معاشی جنگ کا اعلان امریکا کیلئے مزید شکست کا باعث بنےگا ، عباس عراقچی

امریکی صدر نے ایران کی معاشی اور عسکری صورتحال پر بھی سخت تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس پیسہ نہیں ہے جبکہ اس کی بحریہ اور فضائیہ بھی موجود نہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو بھی تنخواہیں ادا نہیں کر رہا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مہنگائی کی شرح سے متعلق بھی بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں افراط زر 350 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ اب دیکھا جائے گا کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوتا ہے۔

 امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا کو پورے خطے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ اس کنٹرول میں آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ اس سے متصل زمینی علاقے بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں اپنی موجودگی کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کررہا ہے۔

ٹرمپ کا ایران کے خلاف سخت ترین معاشی پابندیوں کا اعلان، مدد کرنے والے ممالک کو بھی دھمکی

 ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ایران کے ساتھ معاہدے کا امکان ظاہر کیا تاہم ساتھ ہی واضح کیا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو امریکی شرائط اور مفادات کے مطابق ہو۔

امریکی صدر کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی گنجائش برقرار ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں۔

ٹرمپ کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایران امریکا کشیدگی کے باعث خطے میں سکیورٹی اور معاشی خدشات برقرار ہیں۔

editor

Related Articles