ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور دیگر مخالفین کے دباؤ کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران دشمن کو فیصلہ کن جواب دے گا اور کسی بھی دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کسی صورت دھونس اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور دشمن کو فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بالآخر کسی نہ کسی مرحلے پر ختم ہونی ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ بہتر ہوگا جنگ آج ہی ختم کردی جائے کیونکہ ایران اپنی طاقت ثابت کرچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی اور دیگر مسائل کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔
ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کو امریکا کی جانب سے شدید سیاسی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی صدر نے جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور حکومت کو مہنگائی سمیت دیگر مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران دباؤ کے باوجود اپنی قومی خودمختاری اور مفادات کا دفاع جاری رکھے گا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے مقابلے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی پر زور دیا ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ تہران کو امریکا کی ظالمانہ پابندیوں سے نمٹنے کے لیے مناسب منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران کے دشمن مسلم ممالک کے وسائل اور خام مال پر قبضہ کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔
ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ ایران اور عراق کسی کو بھی اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران امریکی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم ایرانی صدر نے جنگ کے جلد خاتمے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے۔