پیٹرول کے بعد گھی اور کوکنگ آئل بھی مہنگے ، بڑا ضافہ

پیٹرول کے بعد گھی اور کوکنگ آئل بھی مہنگے ، بڑا ضافہ

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد مہنگائی کے اثرات روزمرہ استعمال کی اشیاء تک پہنچنے لگے ہیں، مرغی، مٹن، بیف اور انڈوں کے بعد گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا۔

حالیہ اضافے کے بعد 22 اگست سے پیٹرول کی قیمت 3 روپے 81 پیسے اضافے کے ساتھ 341 روپے 59 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 روپے 59 پیسے اضافے کے ساتھ 368 روپے 29 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 22 سے 24 اگست تک کیا گیا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کے بعد شہریوں کو خدشہ ہے کہ ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے اخراجات میں اضافے کا اثر دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔

لاہور سمیت دیگر شہروں کی اوپن مارکیٹ میں گھی کی مختلف اقسام کی قیمتیں بھی بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانیوں کیلئے امریکا سے بڑی خوشخبری آ گئی ، دیرینہ انتظار ختم

مارکیٹ ذرائع کے مطابق درجہ سوم کا گھی 500 روپے فی کلو سے کم میں دستیاب نہیں، جبکہ درجہ دوم گھی کی قیمت تقریباً 545 سے 550 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح درجہ اول کا گھی 595 سے 600 روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے۔

کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے، جس کے باعث کھانا پکانے کے روزمرہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

پیٹرول مہنگا، مہنگائی کا نیا دباؤ

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے بالواسطہ اثرات ٹرانسپورٹ، مال برداری اور اشیائے خورونوش کی سپلائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

خاص طور پر گھی، کوکنگ آئل، سبزیاں، گوشت اور دیگر اشیاء کی ترسیل میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کے اخراجات بڑھنے سے مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔

شہری پریشان، حکومت سے ریلیف کا مطالبہ

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ دوسری جانب روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی مہنگی ہوتی جارہی ہیں، جس سے متوسط اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے گھریلو بجٹ چلانا مشکل ہوگیا ہے۔

صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گھی اور کوکنگ آئل سمیت بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی کی جائے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے نام پر ناجائز منافع خوری کی اجازت نہ دی جائے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد اب عوام کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کی دیگر اشیاء پر اس کے اثرات کس حد تک سامنے آتے ہیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles