افغانستان میں قابض غیر قانونی طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں اضافہ

افغانستان میں قابض غیر قانونی طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں اضافہ

افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ مختلف طالبان مخالف گروپوں نے ملک کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔

افغان فریڈم فرنٹ کے مطابق صوبہ بدخشاں میں طالبان کے ٹھکانوں پر راکٹ حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 9 طالبان اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ تنظیم کے دعوے کے مطابق صوبائی دارالحکومت فیض آباد میں طالبان کے گورنر آفس کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ لبریشن فرنٹ کی فورسز نے ایک طالبان سیکیورٹی پوسٹ پر راکٹ حملے کیے۔

یہ بھی پڑھیں:طالبان رجیم میں افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ، معاشی تباہی اور عالمی تنہائی کا شکار

دوسری جانب طالبان مخالف مزاحمتی تحریک دی گرین ٹرینڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ تخار کے ضلع چہ آب میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں طالبان کو بھاری جانی نقصان پہنچا۔

شمالی افغانستان میں مزاحمت میں اضافہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران بدخشاں، تخار اور شمالی افغانستان کے دیگر علاقوں میں طالبان مخالف مسلح سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مختلف مزاحمتی گروپ طالبان کے خلاف اپنی کارروائیوں کو بڑھانے کے دعوے کررہے ہیں، جبکہ ان حملوں میں سیکیورٹی چوکیوں، سرکاری تنصیبات اور طالبان سے منسلک اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان حکومت کی نا اہلی، گاؤں منڈیسار میں پینے کے صاف پانی کا بحران سنگین، مکینوں کی زندگی اجیرن بن گئی

ماہرین کے مطابق طالبان مخالف گروپوں کی جانب سے مسلسل حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان حکومت کو بدستور مسلح مزاحمت کا سامنا ہے۔ تاہم ان کارروائیوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق محدود ہے۔

افغانستان میں بڑھتی ہوئی مزاحمت طالبان کے لیے ایک نیا سیکیورٹی چیلنج بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب شمالی اور شمال مشرقی صوبوں میں مختلف مسلح گروپ اپنی سرگرمیاں بڑھانے کا دعویٰ کررہے ہیں۔

editor

Related Articles