امریکی جریدے فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاست اور مسلمانوں سے متعلق پالیسیوں پر سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہندوتوا سیاسی بیانیے کے ایک نمایاں حامی ہیں اور انتہا پسند ہندو نظریے کی حمایت میں جارحانہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ مسلمانوں کے خلاف اپنے سیاسی مؤقف کے اظہار کے لیے نہ صرف سخت بیانات دیتے ہیں بلکہ ایسی پالیسیوں کی حمایت بھی کرتے ہیں جن پر اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹ میں یوگی کے 2020 میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں انہوں نے تقسیم ہند کے وقت بھارت میں رہنے والے مسلمانوں سے متعلق متنازع بیان دیا تھا۔ جریدے کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاست پر ناقدین کی جانب سے معاشرے میں مذہبی تقسیم اور کشیدگی بڑھانے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
جنوبی ایشیا کے امور کے ماہر کرسٹوف جیفرلو کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاست نے انتہا پسند ہندو حلقوں میں مسلمانوں کے خلاف جذبات کو تقویت دی ہے۔ بھارتی صحافی سوشانت سنگھ نے بھی اتر پردیش میں مسلمانوں کو معاشی مشکلات اور پولیس کارروائیوں کا سامنا ہونے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یوگی حکومت نے مسلمانوں سے متعلق معاملات پر کارروائی کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں، جس پر انسانی حقوق اور اقلیتی حقوق کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے بعد ایک بار پھر بھارت میں ہندوتوا سیاست، مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے بحث شدت اختیار کرگئی ہے۔