وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں امن و امان برقرار رکھنے اور سیکیورٹی انتظامات میں ضلعی انتظامیہ کی معاونت کے لیے 6 ماہ کے لیے فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
جاری نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی میں پاک فوج کی 3 کمپنیاں تعینات ہوں گی اور یہ تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔
فوج ضلعی انتظامیہ کی معاونت کرے گی جبکہ سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر فرائض انجام دے گی۔
وفاقی حکومت کی منظوری، نوٹیفکیشن جاری
راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی کے حوالے سے وفاقی حکومت نے باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق فوج کو 6 ماہ کے لیے راولپنڈی میں تعینات کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پاک فوج کی 3 کمپنیاں شہر میں سیکیورٹی ذمہ داریاں انجام دیں گی۔
فوج کی تعیناتی کا بنیادی مقصد امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے میں ضلعی انتظامیہ اور سول اداروں کی معاونت کرنا قرار دیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت کی درخواست پر فیصلہ
نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی میں فوج تعینات کرنے کی درخواست ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے کی گئی تھی، جس کے بعد معاملہ وفاقی حکومت کے سامنے پیش کیا گیا۔
وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد اب فوج کو باضابطہ طور پر راولپنڈی میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں اضافی نفری اور ادارہ جاتی معاونت کو ضروری سمجھا۔
آرٹیکل 245 کے تحت فوج تعینات
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کی گئی ہے۔
آرٹیکل 245 کے تحت مسلح افواج کو وفاقی حکومت کی ہدایت پر ملک کے دفاع کے ساتھ ساتھ مخصوص حالات میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔
ماضی میں بھی امن و امان، اہم قومی تقریبات، حساس سیکیورٹی صورتحال اور دیگر غیر معمولی حالات میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کو مختلف شہروں اور علاقوں میں تعینات کیا جاتا رہا ہے۔
فوج ضلعی انتظامیہ کی معاونت
اس کا مطلب یہ ہے کہ فوج کی تعیناتی کا اعلان سول انتظامیہ کے مکمل متبادل کے طور پر نہیں کیا گیا، بلکہ اسے سول اداروں کی مدد کے لیے سیکیورٹی فریم ورک کا حصہ بنایا گیا ہے۔
عملی طور پر فوجی دستے حساس مقامات، اہم تنصیبات، اہم سرکاری عمارتوں اور ضرورت کے مطابق دیگر مقامات پر سیکیورٹی ذمہ داریاں انجام دے سکتے ہیں، تاہم مخصوص تعیناتی اور آپریشنل ذمہ داریوں کا فیصلہ متعلقہ سیکیورٹی حکام کریں گے۔
راولپنڈی پہلے ہی اہم سیکیورٹی مرکز
راولپنڈی ملک کے حساس ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں اہم فوجی، سرکاری اور دفاعی تنصیبات موجود ہیں، جبکہ شہر اسلام آباد سے جغرافیائی طور پر بھی جڑا ہوا ہے۔
راولپنڈی میں پاکستان فوج کا جنرل ہیڈکوارٹرز بھی واقع ہے، جس کے باعث شہر کی سیکیورٹی نوعیت عام شہروں سے مختلف ہے۔
حالیہ برسوں میں اہم مذہبی اجتماعات، محرم، سیاسی سرگرمیوں اور دیگر حساس مواقع پر شہر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جاتے رہے ہیں۔
اگست 2026 میں بھی راولپنڈی میں اہم مذہبی اجتماعات کے دوران ہزاروں سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے، جبکہ ماضی میں حساس حالات کے دوران فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی سول انتظامیہ کی معاونت کی ہے۔
سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں اہم پیش رفت
راولپنڈی میں فوج کی 6 ماہ کے لیے تعیناتی کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو مجموعی طور پر سیکیورٹی کے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
رواں سال فروری میں بھی سرحدی اور مجموعی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر راولپنڈی میں پولیس اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کیا گیا تھا، جبکہ سرچ اور کومبنگ آپریشنز کے ساتھ حساس مقامات کی سیکیورٹی بڑھائی گئی تھی۔
اسی وسیع تر سیکیورٹی تناظر میں راولپنڈی میں فوج کی مستقل نوعیت کی عارضی تعیناتی کو اضافی حفاظتی انتظام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
3 کمپنیوں کی تعیناتی کا کیا مطلب ہے؟
فوجی اصطلاح میں ایک کمپنی عموماً ایک باقاعدہ فوجی یونٹ ہوتی ہے، تاہم اس کی نفری اور ساخت یونٹ کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے صرف 3 کمپنیوں کا ذکر کرتے ہوئے اہلکاروں کی حتمی تعداد بتانا مناسب نہیں ہوگا جب تک سرکاری طور پر نفری واضح نہ کی جائے۔
اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے راولپنڈی کے لیے ایک محدود مگر طویل المدت سیکیورٹی معاونت کا انتظام کیا ہے۔ 6 ماہ کی مدت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ فیصلہ کسی ایک دن یا چند روزہ ایونٹ تک محدود نہیں۔