سرکاری حج اسکیم لانگ پیکیج میں صرف ساڑھے 18 ہزار نشستیں باقی، 3 دن میں 55 ارب سے زیادہ وصولیاں

سرکاری حج اسکیم لانگ پیکیج میں صرف ساڑھے 18 ہزار نشستیں باقی، 3 دن میں 55 ارب سے زیادہ وصولیاں

سرکاری حج اسکیم کے تحت 40 روزہ لانگ حج پیکیج کی نشستیں تیزی سے پر ہو رہی ہیں اور اب صرف 18 ہزار 500 نشستیں باقی رہ گئی ہیں۔ جبکہ 88 ہزار 700 عازمینِ حج نے پہلی قسط کے واجبات جمع کروا دیے ہیں۔

نیشنل آئی ٹی بورڈ کے حج پورٹل پر محض 3 دنوں کے اندر پہلی قسط کی مد میں 55 ارب روپے سے زائد کی آن لائن ریکارڈ وصولیاں کی گئی ہیں، جس میں 40 فیصد عازمین نے ون لنک اور کارڈز کا استعمال کیا۔

 وزارتِ مذہبی امور نے عازمین کو ہدایت کی ہے کہ کوٹہ مکمل ہوتے ہی بکنگ بند کر دی جائے گی، لہٰذا کوائف اور ادائیگی جلد مکمل کی جائے۔

صوبائی سطح پر رقم جمع کروانے والوں کی تفصیلات

سرکاری حج اسکیم کے تحت اب تک صوبہ پنجاب سے سب سے زیادہ 46 ہزار 400 عازمین نے پہلی قسط جمع کروائی ہے۔ اس کے بعد سندھ سے 23 ہزار 500 اور خیبر پختونخوا سے 11 ہزار 300 عازمین نے اپنے واجبات جمع کیے ہیں۔

 مزید برآں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 3 ہزار 933، بلوچستان سے 2 ہزار 555، گلگت بلتستان سے 677 اور آزاد کشمیر سے 362 عازمینِ حج نے اپنے کوائف اور رقم بینکوں میں جمع کروا دی ہے۔

آن لائن ادائیگی کا نیا ریکارڈ اور بلوچستان کی حیران کن کارکردگی

نیشنل آئی ٹی بورڈ کے تیار کردہ حج پورٹل پر اس سال ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ کل وصولیوں میں سے 40 فیصد عازمین نے روایتی طریقے سے ہٹ کر ون لنک اور ڈیجیٹل کارڈز کے ذریعے اپنی اقساط ادا کیں۔

 خاص طور پر صوبہ بلوچستان میں آن لائن ادا کرنے کا تناسب حیرت انگیز طور پر 72 فیصد رہا، جو ملک میں ڈیجیٹل بینکنگ کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

حج اسکیم کے قواعد اور ڈیجیٹل اصلاحات

پاکستان میں حج آپریشنز کو شفاف اور آسان بنانے کے لیے گزشتہ چند سالوں سے ڈیجیٹلائزیشن پر کام کیا جا رہا ہے۔ پاک حج ایپ اور مربوط پورٹل کے ذریعے عازمین کو پی ایس آئی ڈی، کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ اور مینول بینک چالان کی سہولیات دی گئی ہیں۔

 اس سے قبل عازمین کو لمبی قطاروں اور کاغذی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن جدید پورٹل کے قائم ہونے سے کچھ ہی دنوں میں اربوں روپے کی وصولی شفاف انداز میں ممکن ہو سکی ہے۔

آن لائن سہولیات کا اثر اور عازمین کی فوری توجہ کی ضرورت

اس صورتحال کا صحافتی اور معاشی تجزیہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ سرکاری حج اسکیم پر عوامی اعتماد برقرار ہے اور لوگ نجی سکیماں کے مقابلے میں سرکاری پیکیج کو ترجیح دے رہے ہیں۔

 محض 3 دن کے اندر 55 ارب روپے کی وصولی اور ساڑھے 18 ہزار نشستوں کا بچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ رواں سال حج کوٹہ مقررہ وقت سے بہت پہلے پورا ہو جائے گا۔

علاوہ ازیں، بلوچستان جیسے دور دراز علاقے سے 72 فیصد آن لائن ادائیگی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کو عام اور آسان بنایا جائے تو ملک کے تمام خطے ڈیجیٹل نظام کو اپنانے کے لیے تیار ہیں۔

 عازمین کے لیے اب اہم بات یہ ہے کہ وہ آخری تاریخ کے انتظار کے بغیر اپنے کوائف اور پہلی قسط فوراً جمع کروائیں، کیونکہ 40 روزہ پیکیج کا کوٹہ پورا ہوتے ہی سسٹم خودکار طریقے سے مزید درخواستیں قبول کرنا بند کر دے گا۔

Related Articles