چینی کی قیمت بڑھے گی یا نہیں؟ حکومت نے اہم اعلان کردیا

چینی کی قیمت بڑھے گی یا نہیں؟ حکومت نے اہم اعلان کردیا

حکومت نے ملک میں موجود درآمد کی گئی چینی کے ذخیرے میں سے ایک لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ چینی کی برآمد سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کا کوئی خدشہ نہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق ملک میں چینی کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور موجودہ صورتحال میں مقامی ضروریات پوری کرنے کے بعد بھی قابلِ ذکر مقدار میں اسٹاک دستیاب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں بہتر ہونے کے باعث حکومت دستیاب اضافی ذخیرے کو برآمد کرکے بہتر قیمت حاصل کرنا چاہتی ہے۔

رانا تنویر کے مطابق حکومت کی جانب سے برآمد کیے جانے والے چینی کے ذخیرے کا مقصد مقامی مارکیٹ میں سپلائی کو متاثر کرنا نہیں بلکہ اضافی اسٹاک کو عالمی منڈی میں فروخت کرنا ہے۔ ان کے بقول ملک میں چینی کی دستیابی برقرار رہے گی اور برآمد کے فیصلے سے عام صارف پر اضافی بوجھ نہیں پڑے گا چینی کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوگا چینی کی قیمت برقرار رہے گی

یہ بھی پڑھیں:مریم نواز نے عوام کا دل جیت لیا، بڑی خوشخبری سنا دی

درآمد اور برآمد کا معاملہ کیوں اہم ہے؟

حکومت کے اس فیصلے نے ملک میں چینی کی درآمد اور برآمد سے متعلق پالیسی پر ایک مرتبہ پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں ملک میں چینی کا ذخیرہ ضرورت سے زیادہ ہے، اس لیے عالمی مارکیٹ میں بہتر قیمت ملنے کی صورت میں اضافی اسٹاک کو برآمد کرنا معاشی طور پر فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

تاہم دوسری جانب عوام پاکستان پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حکومت کی شوگر پالیسی پر شدید تنقید کی ہے۔

مفتاح اسماعیل نے الزام عائد کیا کہ پہلے چینی کی برآمد کی اجازت دے کر ملک میں مصنوعی قلت پیدا کی گئی، جس کے بعد مقامی ضروریات پوری کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ چینی درآمد کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب اسی درآمد کی گئی چینی کو دوبارہ برآمد کرنے کا فیصلہ کیا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں پالیسی کے اثرات اور مالی بوجھ بالآخر عام شہری کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کا مؤقف مختلف

چینی کی برآمد کے معاملے پر حکومت اور ناقدین کے مؤقف میں واضح فرق سامنے آیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں وافر ذخیرہ موجود ہے اور عالمی منڈی میں بہتر قیمت کا فائدہ اٹھانے کے لیے اضافی چینی برآمد کی جارہی ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق درآمد اور برآمد کے فیصلوں میں تسلسل نہ ہونے سے مارکیٹ متاثر ہوتی ہے اور اس کا اثر صارفین پر پڑتا ہے۔

چینی پاکستان میں بنیادی اشیائے خورونوش میں شامل ہے، اس لیے اس کی قیمت اور دستیابی براہ راست عام شہری کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چینی کی درآمد، برآمد، ذخائر اور قیمتوں سے متعلق حکومتی فیصلے ہمیشہ عوامی اور سیاسی بحث کا موضوع رہتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے ایک لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن درآمدی چینی کی برآمد کا فیصلہ بھی اسی تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔ اب اہم سوال یہ ہوگا کہ عالمی منڈی میں چینی کی فروخت سے حکومت کو کتنا فائدہ حاصل ہوتا ہے اور مقامی مارکیٹ میں اس فیصلے کے بعد قیمتوں اور دستیابی پر کیا اثر پڑتا ہ

Qaisar Mirza
editor

Related Articles