ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) عثمان انور کو آئی جی خیبرپختونخوا تعینات کیے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔
سوشل میڈیا پر عثمان انور کی بطور آئی جی خیبرپختونخوا تعیناتی سے متعلق اطلاعات گردش کر رہی تھیں، تاہم یہ خبریں اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے پھیلایا جانے والا مواد من گھڑت اور بے بنیاد ہے جس میں کوئی صداقت نہیں ۔
تعیناتی کی خبر درست نہیں
عثمان انور کے آئی جی خیبرپختونخوا بننے سے متعلق خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے،ان کی نئی تعیناتی کے حوالے سے ایسا کوئی باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا،سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کو سرکاری فیصلہ سمجھنا درست نہیں۔
اہم سرکاری عہدوں پر تعیناتی سے متعلق کسی بھی خبر کی حتمی تصدیق متعلقہ ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے باضابطہ نوٹیفکیشن سے ہی ہوتی ہے۔
عثمان انور کا نام غلط طور پر زیرِ گردش
سوشل میڈیا پر زیرِ گردش دعوے میں عثمان انور کو خیبرپختونخوا پولیس کا نیا سربراہ بنائے جانے کی بات کی گئی، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق ایسی کوئی باضابطہ تعیناتی سامنے نہیں آئی۔
لہٰذا ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور کے آئی جی خیبرپختونخوا بننے سے متعلق خبر کو جعلی قرار دیا گیا ہے اور اس حوالے سے گردش کرنے والی غیر مصدقہ معلومات پر اعتماد نہ کیا جائے ۔