عمران خان کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے پاور آف اٹارنی پر اپنے مؤکل سے دستخط کروانے کے لیے اڈیالہ جیل حکام کو خط لکھ دیا،خالد یوسف چوہدری نے عمران خان کے طبی معاملے پر سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کے حوالے سے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو خط لکھا ہے۔
وکیل نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان سے پاور آف اٹارنی پر 24 گھنٹے کے اندر دستخط کروائے جائیں تاکہ قانونی کارروائی آگے بڑھائی جاسکے،وکیل کے مطابق عمران خان سے دستخط کروانے کے لیے 3 پاور آف اٹارنی بذریعہ کورئیر اڈیالہ جیل حکام کو بھجوائی گئی ہیں،خط کی نقل آئی جی جیل خانہ جات اور ایس پی صدر راولپنڈی کو بھی ارسال کی گئی ہے۔
20 اگست کو جیل پہنچنے کا ذکر
خط میں خالد یوسف چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ 20 اگست 2026 کو تین پاور آف اٹارنی لے کر اڈیالہ جیل پہنچے تھے، جہاں گیٹ نمبر 5 پر ان کا نام درج کیا گیا۔
وکیل کے مطابق پاور آف اٹارنی عمران خان کے سامنے پیش نہیں کی گئی،انہوں نے بتایا کہ اس معاملے سے متعلق بیان حلفی سپریم کورٹ میں بھی جمع کرایا گیا جبکہ اس کی نقل خط کے ساتھ منسلک کردی گئی ہے۔
قانونی حقوق متاثر ہونے کا مؤقف
خالد یوسف چوہدری نے خط میں کہا کہ پاور آف اٹارنی پر عمران خان کے دستخط نہ کروانے سے ان کے قانونی حقوق متاثر ہورہے ہیں، پاور آف اٹارنی کی تکمیل میں تاخیر سابق وزیراعظم کے حقِ رسائیِ انصاف میں رکاوٹ ہے۔
عدالت سے رجوع کرنے کا عندیہ
وکیل نے واضح کیا کہ اگر پاور آف اٹارنی واپس نہ کی گئی اور دستخط کا عمل مکمل نہ ہوا تو معاملہ متعلقہ حکام اور عدالت کے سامنے رکھا جائے گا،انہوں نے کہا کہ 18 اگست 2026 کے سپریم کورٹ کے حکم سے متعلق توہین عدالت کی درخواست دائر کی جانی ہے، جس کے لیے پاور آف اٹارنی پر عمران خان کے دستخط ضروری ہیں۔