اسلام آباد انتظامیہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست کی جلد سماعت کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع کرلیا۔
چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق نظرثانی درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،درخواست میں 18 اگست کے عدالتی حکم پر نظرثانی، اس میں ترمیم اور حکم واپس لینے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
نجی ہسپتال منتقلی کا حکم چیلنج
ریویو پٹیشن میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے نجی اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے،درخواست میں بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے اور علاج کے لیے میڈیکل پینل تشکیل دینے سے متعلق عدالتی احکامات پر بھی نظرثانی کی استدعا کی گئی ہے۔
چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست میں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق قانونی سوالات بھی اٹھائےگئےہیں،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ معاملہ صرف طبی سہولیات تک محدود نہیں بلکہ قانونی اور آئینی دائرہ اختیار سے بھی متعلق ہے۔
آرٹیکل 175(2) کا حوالہ
ریویو پٹیشن میں آئین کے آرٹیکل 175(2) اور جیل قوانین سے متعلق بھی قانونی سوالات اٹھائے گئے ہیں،درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا عدالتی حکم وقت کی پابندی پر مبنی تھا، اس لیے نظرثانی درخواست کی فوری سماعت ضروری ہے۔
حکم پر نظرثانی کی درخواست
اسلام آباد انتظامیہ نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی ہے کہ 18 اگست کے حکم کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور بانی پی ٹی آئی کی نجی اسپتال منتقلی سمیت میڈیکل پینل سے متعلق دی گئی ہدایات پر نظرثانی کی جائے۔