امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے، جہاں وہ خطے میں موجود یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ تعینات ہوگا، امریکی حکام کے مطابق جارج واشنگٹن کی خطے میں آمد پہلے سے طے شدہ تعیناتی منصوبے کا حصہ ہے۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ میں تعیناتی کا مقصد یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ لینا ہے، جو طویل عرصے سے خطے میں موجود ہے،یو ایس ایس ابراہم لنکن رواں سال جنوری سے مشرق وسطیٰ میں تعینات ہے اور امریکی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
خطے میں امریکی بحری موجودگی برقرار
جارج واشنگٹن کی آمد کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری موجودگی برقرار رہے گی، طیارہ بردار بحری جہاز امریکی بحریہ کی اہم جنگی صلاحیتوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور دیگر معاون بحری جہاز بھی تعینات ہوتے ہیں،امریکی حکام کے مطابق موجودہ تعیناتی کو کسی نئی ہنگامی صورتحال کے بجائے پہلے سے طے شدہ آپریشنل منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی خطے میں موجودگی طویل عرصے پر محیط ہے، امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاز کی طویل تعیناتی کے دوران عملے کو مسلسل آپریشنل دباؤ اور مشکل حالات کا سامنا رہا۔
رپورٹس میں ابراہم لنکن کے عملے میں خودکشی کی کوششوں کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس نے طویل عرصے تک جاری رہنے والی تعیناتی کے دوران فوجی اہلکاروں کی ذہنی اور نفسیاتی مشکلات سے متعلق سوالات اٹھائے۔
خطے کی صورتحال میں اہم پیش رفت
یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے جارج واشنگٹن کی تعیناتی کو معمول کے شیڈول کا حصہ قرار دیا گیا ہے، تاہم خطے میں موجود امریکی بحری اور فضائی اثاثوں کی موجودگی کو مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن کی مسلسل فوجی موجودگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی تعیناتی کے بعد ابراہیم لنکن کی آئندہ نقل و حرکت اور واپسی سے متعلق تفصیلات امریکی بحریہ کی جانب سے آپریشنل ضروریات کے مطابق طے کی جائیں گی۔