حکومت کا بڑا فیصلہ، عوامی سہولت کے لیے 8 ریجنل پاسپورٹ دفاتر کے اوقاتِ کار میں اضافہ

حکومت کا بڑا فیصلہ، عوامی سہولت کے لیے 8 ریجنل پاسپورٹ دفاتر کے اوقاتِ کار میں اضافہ

حکومتِ پاکستان نے شہریوں کی سہولت اور پاسپورٹ کے حصول کو آسان بنانے کے لیے ملک کے 8 اہم ریجنل پاسپورٹ دفاتر کے اوقاتِ کار میں نمایاں توسیع کر دی ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی خصوصی ہدایات پر ان دفاتر میں 2 شفٹوں میں کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جہاں اب صبح 8:00 بجے سے رات 12:00 بجے تک خدمات فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد دفاتر میں رش کو کم کرنا اور عوام کو بلا تاخیر پاسپورٹ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

توسیع شدہ اوقاتِ کار والے شہر اور تفصیلی طریقہ کار

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جن 8 اضلاع کے ریجنل پاسپورٹ دفاتر کے اوقات بڑھائے گئے ہیں ان میں فیصل آباد، گجرانوالہ، ملتان، بہاولپور، پشاور، راولپنڈی، حیدرآباد اور کوئٹہ شامل ہیں۔

ان تمام شہروں کے دفاتر میں اب ملازمین دو مختلف شفٹوں میں فرائض انجام دیں گے، جس سے دفتری وقت کے بعد بھی شہری پاسپورٹ کی پروسیسنگ کروا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:یومِ کشمیر کے موقع پر بڑے شہروں میں ریجنل پاسپورٹ آفس بند رکھنے کا فیصلہ

حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بالخصوص ملازمت پیشہ افراد، طالب علموں اور کاروباری طبقات کو بڑی سہولت ملے گی جن کے لیے روایتی دفتری اوقات میں پاسپورٹ دفتر جانا دشوار ہوتا تھا۔

اب شہری اپنی سہولت کے مطابق دن یا شام کے کسی بھی وقت پاسپورٹ آفس کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے لمبی قطاروں اور گھنٹوں انتظار کی زحمت سے نجات ملے گی۔

عوامی رسائی اور خدمات میں بہتری کے اقدامات

پاسپورٹ حکام نے وضاحت کی ہے کہ یہ قدم سرکاری خدمات تک عوام کی آسان رسائی کو یقینی بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔

روایتی دفتری اوقات سے ہٹ کر رات 12 بجے تک سروس فراہم کرنے سے نہ صرف یومیہ بنیادوں پر درخواس دہندگان کی تعداد میں اضافہ سنبھالا جا سکے گا بلکہ پروسیسنگ کے لیے انتظار کا وقت بھی کافی حد تک کم ہو جائے گا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق نئی شفٹوں کے لیے عملے کی دیکھ بھال اور انتظامی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ دوپہر اور رات کی شفٹ میں بھی شہریوں کو وہی معیاری سہولیات ملیں جو صبح کے وقت دستیاب ہوتی ہیں۔

کیا دفتری اوقات میں توسیع سے عوامی مسائل حل ہو پائیں گے؟

پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے پاسپورٹ کا حصول شہریوں کے لیے ایک کٹھن مرحلہ بنا ہوا تھا۔ ٹریفک کا ازدحام، دفاتر میں عملے کی کمی اور محدود اوقات کی وجہ سے شہریوں کو نہ صرف شدید پریشانی اٹھانی پڑتی تھی بلکہ ایجنٹ مافیا کو بھی پنپنے کا موقع ملتا تھا۔

مزید پڑھیں:وزیر داخلہ کی پاسپورٹ کے حصول کیلئے نئی شرائط کے قانونی امور جلد مکمل کرنے کی ہدایت

واضح رہے کہ وزیرِ داخلہ کا 8 بڑے شہروں میں 16 گھنٹے سروس فراہم کرنے کا فیصلہ ایک انتہائی عملی اور خوش آئند قدم ہے۔ اس سے دفاتر پر مسلسل پڑنے والا دباؤ تقسیم ہو جائے گا۔ تاہم، اس اقدام کے مکمل اثرات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاسپورٹ کی پرنٹنگ اور ہوم ڈلیوری کے نظام کو بھی اسی رفتار سے جدید بنایا جائے، تاکہ صرف درخواست جمع ہونا ہی نہیں بلکہ پاسپورٹ کی بروقت ترسیل بھی یقینی ہو سکے۔

پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں پاسپورٹ دفاتر پر شہریوں کا بے پناہ ہجوم دیکھنا ایک عام سی بات رہی ہے۔ بیرونِ ملک روزگار، تعلیم اور زیارات کے لیے جانے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کی وجہ سے پاسپورٹ کی طلب میں ریکارڈ اضافہ درج ہوا ہے۔

اس سے قبل، زیادہ تر دفاتر صبح سے دوپہر تک کے محدود اوقات میں کام کرتے تھے، جس کی وجہ سے شہریوں کو صبح سویرے سے ہی لائنوں میں لگنا پڑتا تھا۔

عوام کی ان مسلسل شکایات اور میڈیا رپورٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے مرحلہ وار بنیادوں پر ریجنل دفاتر کا نظام اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کے تحت ان 8 بڑے شہروں میں دو شفٹوں کا نیا ماڈل نافذ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

Related Articles