ایران کے خلاف مہم جوئی میں امریکا کا روزانہ کتنے ارب ڈالر خرچ ہوتا ہے، ’ہارورڈ‘ کی تہلکہ خیز رپورٹ جاری

ایران کے خلاف مہم جوئی میں امریکا کا روزانہ کتنے ارب ڈالر خرچ ہوتا ہے، ’ہارورڈ‘ کی تہلکہ خیز رپورٹ جاری

سابق ایرانی نائب وزیر خارجہ نے ‘ہارورڈ کینیڈی اسکول’ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی جنگ کے روزانہ اخراجات 5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

اس تنازع کی وجہ سے امریکا کو روزانہ 8 ارب ڈالر کے معاشی فوائد سے بھی ہاتھ دھونا پڑ رہا ہے، جس کا براہ راست بوجھ امریکی ٹیکس دہندگان اور عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق ایرانی نائب وزیر خارجہ نے امریکی ادارے کی ایک تفصیلی رپورٹ کے حوالے سے چونکا دینے والے حقائق پیش کیے ہیں۔

اس رپورٹ میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری سرد اور معاشی جنگ کے حیرت انگیز اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے براہ راست اور بالواسطہ اخراجات کا حجم امریکی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران جنگ بندی میں بطورثالثی اہم کردار، عالمی سطح پر پاکستان کی امن کاوشوں کا اعتراف

امریکی جانب سے روزانہ کی جانے والی براہ راست فوجی کارروائیوں، خطے میں فوج کی تعیناتی اور نگرانی پر 2 ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، انٹیلی جنس، سفارتی دباؤ اور دیگر لاجسٹک امور کی مد میں بالواسطہ اخراجات مزید 3 ارب ڈالر روزانہ بنتے ہیں۔

مزید برآں تنازع کے باعث تجارت کے محدود ہونے سے امریکا کو ہر روز 8 ارب ڈالر کے معاشی فوائد کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جس کا خمیازہ وہ عام امریکی شہری بھگت رہے ہیں جن کا اس سیاسی چپقلش سے کوئی لینا دینا نہیں۔

عالمی تجارت پر اثرات اور خاموش معاشی بغاوت

رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ امریکا کو ایران کی بین الاقوامی تیل کی تجارت میں مداخلت کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق حاصل نہیں۔

 حقائق یہ بتاتے ہیں کہ امریکی پابندیوں کے باوجود، دنیا کے بہت سے ممالک عملی طور پر ایران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات اور توانائی کا لین دین جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اگرچہ سفارتی دباؤ کے باعث وہ باضابطہ طور پر ان تعلقات کا اعلان نہیں کرتے، لیکن یہ ‘خاموش معاشی بغاوت’ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جنگ محض امریکی عوام اور مغربی اتحادیوں پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے جبکہ اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کی ایک طویل تاریخ ہے جو کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ جوہری معاہدے سے امریکی انخلاء اور اس کے بعد لگائی جانے والی سخت ترین معاشی پابندیوں نے اس تنازع کو ایک غیر علانیہ جنگ کی شکل دے دی ہے۔

امریکا کی جانب سے ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی پالیسی کا مقصد ایران کی معیشت، بالخصوص اس کی تیل کی برآمدات کو مفلوج کرنا تھا، تاکہ خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔ تاہم، اس پالیسی نے خطے میں عدم استحکام کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ خود عالمی منڈی کو بھی متاثر کیا ہے۔

جنگ اور پابندیوں کی پالیسی

یہ اعداد و شمار بین الاقوامی سیاست اور تنازعات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم سوال کھڑا کرتے ہیں، کیا اقتصادی اور فوجی محاذ آرائی واقعی کسی ملک کے مفاد میں ہوتی ہے؟

مزید پڑھیں:امریکا ایران جنگ کے فیصلے کا آج اہم دن ، جنگ جاری رہے گی یا رکے گی؟ امریکی کانگریس آج فیصلہ کریگی

روزانہ 5 ارب ڈالر کا خرچ اور 8 ارب ڈالر کا نقصان یہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کی قیمت صرف فریقِ مخالف نہیں چکاتا، بلکہ حملہ آور ملک کی معیشت بھی اندر سے کھوکھلی ہونے لگتی ہے۔

ایران کا دیگر ممالک کے ساتھ پس پردہ تجارتی روابط کا جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آج کے گلوبلائزڈ دور میں کسی بھی ملک کو مکمل طور پر تنہا کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال امریکی پالیسی سازوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ آیا انہیں اپنی خارجہ پالیسی اور پابندیوں کے اس بے ثمر اور مہنگے ماڈل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے یا نہیں؟

Related Articles