امریکی سکھ تنظیمیں آر ایس ایس کے خلاف ڈٹ گئیں، موہن بھاگوت کے امریکا داخلے پر پابندی کا مطالبہ

امریکی سکھ تنظیمیں آر ایس ایس کے خلاف ڈٹ گئیں، موہن بھاگوت کے امریکا داخلے پر پابندی کا مطالبہ

امریکی سکھ تنظیموں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، آر ایس ایس، کے سربراہ موہن بھاگوت کے آئندہ دورہ امریکا کی مخالفت کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے انہیں ملک میں داخلے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کردیا۔

یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب موہن بھاگوت 25 اگست سے امریکا، کینیڈا اور برطانیہ کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔ آر ایس ایس کے مطابق یہ دورہ بیرون ملک مقیم بھارتی نژاد افراد اور مختلف مقامی تنظیموں کی دعوت پر کیا جا رہا ہے اور اس کا تعلق تنظیم کے سو سال مکمل ہونے کی تقریبات سے بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران سے جنگ کے بعد امریکی فوجی اڈوں کا مستقبل خطرے میں ہے ،برطانوی اخبار

امریکی سکھ تنظیموں کی جانب سے 20 اگست کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے نام خط ارسال کیا گیا۔ خط پر امریکن سکھ کاکس کمیٹی، سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی ایسٹ کوسٹ اور امریکن گردوارہ پربندھک کمیٹی کے نمائندوں کے دستخط ہیں۔

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں پر بھارت میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص سکھوں، مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف تشدد، امتیاز اور مبینہ ظلم کے الزامات کا طویل ریکارڈ موجود ہے۔ تنظیموں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے گروہوں کے رہنماؤں کو سفارتی مراعات یا اعلیٰ سطحی رسائی فراہم نہ کی جائے۔

امریکی سکھ تنظیموں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ موہن بھاگوت کو امریکا میں داخلے کی اجازت دینا اور انہیں سرکاری یا عوامی سطح پر پذیرائی دینا مذہبی آزادی سے متعلق خدشات کے تناظر میں ایک غلط پیغام دے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات آر ایس ایس کو بین الاقوامی سطح پر مزید قبولیت فراہم کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کے اگلے قدم کا انتظار، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں

امریکی مذہبی آزادی کمیشن کا بھی آر ایس ایس پر پابندیوں کا مطالبہ

موہن بھاگوت کے دورہ امریکا سے قبل امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی  کے حکام بھی آر ایس ایس سے متعلق سخت مؤقف سامنے لا چکے ہیں۔

19 اگست کو بین الاقوامی مذہبی آزادی کے چیئرمین آصف محمود نے کہا کہ امریکی حکومت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار پائے جانے والے آر ایس ایس کے ارکان کے خلاف ہدفی پابندیوں پر غور کرنا چاہیے اور تنظیم کے رہنماؤں کو اعلیٰ سطحی ملاقاتوں یا سفارتی مراعات سے گریز کرنا چاہیے۔

موہن بھاگوت کے دورے کے دوران امریکا میں ان کی مختلف تقریبات میں شرکت متوقع ہے۔ ان کے دورے کا ایک اہم پروگرام 29 اگست کو نیویارک میں ہونے والی ’یونیورسل ونیسز ،سیلیبریشنز‘ تقریب بھی ہے، جس کا اہتمام امریکن ہندوز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ، ای ہیڈ، کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کی سخت پابندیوں کے سامنے ثابت قدم ہیں اور رہیں گے،ایرانی صدر

دوسری جانب آر ایس ایس اپنے بیرون ملک دورے کو عالمی سطح پر رابطہ مہم کا حصہ قرار دے رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق اس کا مقصد بھارتی نژاد برادریوں سے رابطہ بڑھانا اور بھارت، ہندو معاشرے اور آر ایس ایس کے بارے میں اپنے مؤقف کو عالمی سطح پر پیش کرنا ہے۔

یوں موہن بھاگوت کے دورہ امریکا سے قبل ایک طرف آر ایس ایس اپنی عالمی رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی سکھ تنظیموں اور مذہبی آزادی کے اداروں کی جانب سے اس دورے اور تنظیم کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

editor

Related Articles