2016 میں بھی موجودہ چیف الیکشن کمشنر نے ہی آزاد کشمیر میں ن لیگ کو دھاندلی سے اقتدار میں لایا تھا، پیپلزپارٹی کا الزام

2016 میں بھی موجودہ چیف الیکشن کمشنر نے ہی آزاد کشمیر میں ن لیگ کو دھاندلی سے اقتدار میں لایا تھا، پیپلزپارٹی کا الزام

پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر کی قیادت نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر دھاندلی، تشدد اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔ پارٹی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات کو کالعدم قرار دے کر شفاف اور غیر جانبدارانہ ماحول میں دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔

اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکرٹری جنرل سینیٹر نیئر حسین بخاری، قائم مقام صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر، پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین اور ندیم افضل چن نے کہا کہ انتخابی عمل شفاف نہیں تھا اور متعدد حلقوں میں نتائج کو مبینہ طور پر تبدیل کیا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں :آزاد کشمیرانتخابات کا دوسرا مرحلہ ، کئی سیاسی اپ سیٹ، 7 نئے چہرے اسمبلی پہنچ گئے

چوہدری محمد یاسین نے الزام عائد کیا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر نے 2016 کے انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) کو فائدہ پہنچایا تھا اور 2026 میں بھی اسی طرز پر انتخابی عمل کو متاثر کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرپور ڈویژن میں پیپلزپارٹی کی کئی نشستیں مبینہ دھاندلی کے ذریعے چھینی گئیں اور مسلم لیگ (ن) کو اقتدار دلانے کی کوشش کی گئی۔

سینیٹر نیئر حسین بخاری نے کہا کہ پیپلزپارٹی پونچھ ڈویژن میں بھی مبینہ دھاندلی کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض حلقوں میں تشدد اور غنڈہ گردی کے ذریعے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق قائم مقام صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر بھی حملہ کیا گیا جو امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں ایسا انتخاب کبھی نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق بعض پولنگ اسٹیشنوں پر 91 سے 97 فیصد تک ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جو ان کے بقول غیر معمولی اور قابلِ تحقیق ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی مقامات پر ووٹنگ کا عمل تاخیر سے شروع ہوا لیکن اس کے باوجود انتہائی زیادہ ٹرن آؤٹ ظاہر کیا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں :میرپور میں پرامن اور کامیاب الیکشن بھارت کو ہضم نہ ہوا ،بھارتی میڈیا آزاد کشمیر میں گھناونا پروپیگنڈا کرنے لگا

انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی انتظامات کے لیے اربوں روپے مختص کیے مگر متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر مناسب سیکیورٹی موجود نہیں تھی۔ ان کے مطابق اگر انتخابی عمل کے دوران ووٹرز اور امیدواروں کی حفاظت یقینی نہیں بنائی جا سکی تو اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔

پیپلزپارٹی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو متاثرہ حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ان الزامات پر مختلف مواقع پر تردید کی جا چکی ہے اور مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتخابات قانون کے مطابق منعقد ہوئے۔ تاہم اس خبر میں بیان کیے گئے الزامات پریس کانفرنس میں پیپلزپارٹی قیادت کے دعووں پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

editor

Related Articles