نئے قانون کے تحت عوامی اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی، زیر حراست افراد کی حراست 3 روز سے بڑھا کر 10 روز کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
افغان طالبان حکومت کی جانب سے نئے پولیس قانون کے نفاذ نے ملک میں شہری آزادیوں، حق احتجاج اور پولیس کے اختیارات سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے ذریعے عوامی اجتماعات اور مظاہروں پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ پولیس کو مزید وسیع اختیارات دیے گئے ہیں۔
افغان میڈیا اداروں افغانستان انٹرنیشنل اور کابل ناؤ کی رپورٹس کے مطابق نئے پولیس قانون میں عوامی اجتماعات اور احتجاج سے متعلق سخت پابندیاں شامل کی گئی ہیں۔ کابل ناؤ کے مطابق قانون کے تحت مظاہروں پر پابندی عائد کیے جانے سے شہریوں کے لیے پُرامن احتجاج اور عوامی سطح پر اپنے مطالبات سامنے رکھنے کی گنجائش مزید محدود ہوگئی ہے۔
زیر حراست افراد کی حراست کی مدت میں اضافہ
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق نئے پولیس قانون کے تحت زیر حراست افراد کو پہلے 3 روز تک حراست میں رکھنے کی اجازت تھی، تاہم اب یہ مدت بڑھا کر 10 روز کردی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق قانون میں پولیس کے لیے مشتبہ افراد سے نمٹنے کے حوالے سے بھی ایسے اختیارات شامل کیے گئے ہیں جن پر انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
پولیس کو سخت رویے کے اختیارات دینے کا دعویٰ
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق نئے قانون کے تحت پولیس کو مشتبہ افراد کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے اور انہیں توبہ پر مجبور کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ قانون کی ایک متنازع شق پولیس کو ملزمان کو موت کی دھمکی دینے کی اجازت دیتی ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے حلقوں کے نزدیک اگر یہ شق اسی طرح نافذ کی گئی ہے تو اس سے زیر حراست افراد کے بنیادی حقوق اور تحفظ سے متعلق سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
پُرامن احتجاج پر طاقت کے استعمال کا خدشہ
افغان سیاسی تجزیہ کار احمد احسان سروریار کے مطابق نئے قانون کے تحت پولیس کو پُرامن احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف طاقت استعمال کرنے کے مزید اختیارات حاصل ہوسکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ احتجاج اور عوامی اجتماعات پر پابندیوں کے نتیجے میں شہریوں کے لیے اپنے مسائل اور مطالبات حکام تک پہنچانے کے پُرامن ذرائع مزید محدود ہوجائیں گے۔
انسانی حقوق کی کارکن کا ردعمل
انسانی حقوق کی کارکن فروزان عظمیٰ نے بھی نئے پولیس قانون پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق قانون کا مقصد معاشرتی اصلاح کے بجائے شہریوں کے دائرہ آزادی کو محدود کرنا اور عام افغان شہریوں کی زندگیوں کو مزید مشکل بنانا ہے۔
انسانی حقوق کے حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ قانون میں پولیس کے اختیارات میں اضافہ، احتجاج پر پابندی اور حراست کی مدت میں توسیع ایسے اقدامات ہیں جن کی شفاف نگرانی اور قانونی تحفظ ضروری ہے۔
نئے قانون کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس نے ایک بار پھر افغانستان میں سے متعلق سوالات کو نمایاں کردیا ہے۔ تاہم قانون کی مکمل تفصیلات اور اس کے عملی نفاذ کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔