معروف پاکستانی قوال و گلوکار راحت فتح علی خان نے حال ہی میں ہونیوالی استاد نصرت فتح علی خان کی برسی پر ان کی قبر پر قوالی پرفارمنس کے معاملے پر تنقید کرنیوالوں کو جواب دیدیا ۔
تفصیلات کے مطابق راحت فتح علی خان نے ایک یوٹیوب شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا صارفین محبت کی وجہ سے تنقید کرتے ہیں اور یہ بھی ان کے اظہارِ محبت کا ایک انداز ہے تاہم جو لوگ ہماری روایات سے واقف نہیں، وہ اس عمل پر تنقید کرتے ہیں۔
راحت فتح علی کا کہنا ہے کہ ہم اپنی میراث اور روایت پر عمل کرتے ہیں ، یہ ہمارے خاندان کی 100 سال پرانی روایت ہے، ہم قوال اسی طرح کرتے ہیں، میں نے بھی اپنی خاندانی روایت پر عمل کیا اور مجھے اس پر کوئی افسوس نہیں۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم قبر کے اندر کھڑے نہیں تھے بلکہ قبر کے کناروں پر کھڑے ہو کر قوالی پڑھ رہے تھے اور اس دوران مکمل احترام کا خیال رکھا کیا گیا ، میری باڈی لینگویج سے بھی واضح تھا کہ میں وہاں انتہائی احترام کے ساتھ موجود تھا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین نہیں آتا کہ میرے اپنے کسی عزیز نے بھی میرے خلاف اتنی باتیں کیں۔
راحت فتح علی خان نے یہ بھی کہا کہ قوالی سے قبل قرآن خوانی اور دعاؤں کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل نصرت فتح علی خان کی برسی کے موقع پر راحت فتح علی خان نے ان کی قبر پر قوالی پیش کی تھی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔