سپریم کورٹ نے نیب مقدمات دائرہ اختیار کیس سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس قومی احتساب بیورو (نیب) کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے اور تمام کیسز آئینی عدالت میں سنے جائیں گے ۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے نیب مقدمات سے متعلق فیصلے میں قرار دیا ہے کہ 3 مارچ کو نیب قانون میں ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت کو اپیلیٹ فورم قرار دیا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق ضمانت کے ایک مقدمے میں نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھایا، جبکہ اس سے قبل 18 مارچ کو ایک نیب کیس میں ملزم کو ضمانت دیتے وقت اختیار سماعت کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ پہلے مقدمے میں دائرہ اختیار پر سوال نہ اٹھانے کی وجہ نیب ہی بتا سکتا ہے، تاہم کسی فریق کی رضامندی یا اعتراض نہ ہونے سے عدالت کو اختیار سماعت حاصل نہیں ہو جاتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ نیب قانون کے سیکشن 32 اے کے تحت دوسری اپیل کا حق ماضی سے لاگو ہوگا، سپریم کورٹ شریعت کورٹ کے خلاف اپیلیں سن سکتی ہے لیکن نیب مقدمات کی نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ یہ ممکن نہیں کہ ضمانت کی درخواستیں سپریم کورٹ سنے اور اپیلیں وفاقی آئینی عدالت، کیونکہ ہر سائل اپنی پسند کے مطابق عدالتی فورم کا انتخاب نہیں کر سکتا۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو منتقل تصور سمجھے جائیں گے۔
نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی،جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعتیں کیں،بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے، سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
خیال رہے کہ عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی، اس فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی ، یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔