سرحد یونیورسٹی معاملے کے پیچھے وجہ کیا نکلی؟اصل حقیقت سامنے آگئی

سرحد یونیورسٹی معاملے کے پیچھے وجہ کیا نکلی؟اصل حقیقت سامنے آگئی

سرحد یونیورسٹی کا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان نے اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے شعبہ اسٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ ڈاکٹر آئینہ کو ہراساں کیا۔

ڈاکٹر آئینہ نے اس ناانصافی پر خاموش رہنے کے بجائے قانون اور اصول کا راستہ چنا اور انتظامیہ کے پاس باقاعدہ شکایت درج کرائی یونیورسٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایچ او ڈی کو معطل کر دیا اور واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔

لیکن کہانی کا دوسرا اور تلخ رخ اس وقت سامنے آیا جب معطل شدہ ایچ او ڈی کی بحالی کے لیے طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے یونیورسٹی میں احتجاج شروع کر دیا،ڈاکٹر آئینہ جو کہ ایک ذمہ دار عہدیدار ہیں ، مظاہرین سے بات چیت کرنے اور صورتحال کو سنبھالنے کے لیے خود ان کے پاس گئیں ، مگر وہاں قانون اور احترام کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔

تلخ کلامی کیسے ہوئی؟

پھر اچانک بات چیت تلخ کلامی میں بدلی اور بپھرے ہوئے ہجوم میں سے ایک لڑکے نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے ڈاکٹر آئینہ کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا اور سرِعام دھمکی دی کہ آج ہم تمہاری عزت خراب کر دیں گے ، ڈاکٹر آئینہ نے اس ہجوم سے جہاں یونیورسٹی کے گارڈز بے بس اور ناکافی ثابت ہو رہے تھے، بمشکل اپنی جان اور عزت بچائی۔

ڈاکٹر آئینہ کا شوہر کو فون

پھر ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر کو فون کیا جو پاک فوج میں ایک افسر ہیں جب ایک غیرت مند شوہر اور فوجی افسر کے کانوں میں یہ الفاظ پڑے کہ اس کی شریکِ حیات کے گریبان پر ہاتھ ڈالا گیا ہے تو اس کا دماغ گھوم گیا۔

یہ بھی پڑھیں :سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس واقعہ، پاک فوج نے سخت نوٹس لے لیا

غصے اور غیرت کی اس شدت کی لہر میں وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ ایک فوجی افسر ہیں انہوں نے نہ تو پولیس کو اطلاع دی اور نہ ہی اپنے ساتھ کوئی دستہ یا جوان لیے،وہ یہ سوچے بغیر کہ وہاں درجنوں بپھرے ہوئے طلبہ ان پر حملہ کر سکتے ہیں، تنِ تنہا یونیورسٹی کی طرف روانہ ہو گئے ایسے حالات میں ایک غیور انسان کا دماغ نہیں، بلکہ اس کا دل اور جذبات فیصلہ کرتے ہیں۔

یونیورسٹی پہنچنے پر کیا ہوا؟

جیسے ہی یہ فوجی افسر یونیورسٹی پہنچے، ڈاکٹر آئینہ سہمے ہوئے قدموں سے بھاگتی ہوئی ان کے پاس گئیں اور روتے ہوئے اس نوجوان کی طرف اشارہ کیا جس نے ان کی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا،فوجی افسر سیدھے اس لڑکے کی طرف بڑھے اور اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا تمہیں شرم نہیں آتی؟ اور ایک بڑے بزرگ کی طرح، جو کسی چھوٹے کو غلطی پر تنبیہ کرتا ہے، انہوں نے اپنی اسٹک سے اسے ایک دو بار ہلکا سا مارا۔

مگر وہ ہجوم تو پہلے ہی سے کسی اشتعال کے انتظار میں تھا، طلبہ نے فوری طور پر اس فوجی افسر کو چاروں طرف سے گھیر لیا، افسر نے انہیں سمجھانے اور بات کرنے کی کوشش کی، لیکن نوجوان مار پیٹ پر اترے ہوئے تھے۔

دھکم پیل کیوں ہوئی؟

اسی دھکم پیل میں کسی نے ڈاکٹر آئینہ کو زور دار دھکا دیا اور دو لڑکوں نے آگے بڑھ کر ان کے بازو پکڑنے کی کوشش کی، اپنی بیوی کو اس حال میں دیکھ کر وہ افسر ان کے سامنے ڈھال بن گیا، لیکن اس کوشش میں ڈاکٹر آئینہ زمین پر گر گئیں۔

اصل کہانی

بیوی کو زمین پر گرا دیکھ کر اور دانستہ طور پر اپنی فوجی وردی کو پھٹتا دیکھ کر افسر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، اپنی اور اپنی زوجہ کی جان کو شدید خطرے میں پا کر انہوں نے دفاعی طور پر اپنی پستول نکالی، ہجوم کو پیچھے دھکیلا اور انہیں ڈرانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تاکہ بپھرا ہوا ہجوم پیچھے ہٹ سکے یہ ہے پوری اور اصل کہانی ۔

 فوجی افسر اکیلا گیا 

سوچنے کی بات یہ ہے کہ فوجی افسر اکیلا گیا !! اگر فوجی افسر پلاننگ سے یہ سب کرنے جاتا تو ساتھ درجن بھر جوان لے جاتا،فوجی افسر غلط ہوکر بھی غلط نہیں ہے بلکہ اس نے اپنی عزت کا دفاع کیا ہے ،اگر وہ پولیس کو اطلاع کرتا وہ تاخیر سے پہنچتی تو کیا ہوتا ، اگر اس کی نیت طلبہ پر تشدد کی ہوتی تو وہ اپنے ساتھ آٹھ دس فوجی جوان لاسکتا تھا لیکن اس کی نیت تو صرف نوجوان کی سرزنش کی تھی کہ تمہارے گھر میں ماں بہن نہیں ہیں ، لیکن بات کو کیا سے کیا بنادیا گیا۔

editor

Related Articles