لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار ولی کی بیگم ڈاکٹر آئنہ کو اعلی کارکردگی پر کچھ ہی روز قبل ترقی دی گئی تھی ، نوٹیفکیشن کی کاپی آزاد ڈیجیٹل نے حاصل کر لی

لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار ولی کی بیگم ڈاکٹر آئنہ کو اعلی کارکردگی پر کچھ ہی روز قبل ترقی دی گئی تھی ، نوٹیفکیشن کی کاپی آزاد ڈیجیٹل نے حاصل کر لی

لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار ولی کی اہلیہ ڈاکٹر آئنہ عطا کو اعلیٰ کارکردگی پر کچھ ہی روز قبل ترقی دی گئی تھی، جس کا نوٹیفکیشن آزاد ڈیجیٹل نے حاصل کر لیا۔

موصول ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق 3 جولائی 2026 کو ڈاکٹر آئنہ عطا کو اسٹوڈنٹس افیئرز کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

نوٹیفکیشن سرحد یونیورسٹی کے کیمپس ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔

دوسری جانب آزاد ڈیجیٹل نے سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے سے قبل یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران کے واٹس ایپ گروپ کی چیٹ حاصل کرلی ہے جس میں ڈاکٹر آئنہ اپنے ساتھ پیش آنے والے ہراسگی سے متعلق ممبران کو آگاہ کررہی ہیں۔

سرحد یونیورسٹی سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق پروفیسر جدون کے حوالے سے طالبات کی جانب سے شکایات سامنے آئی تھیں کہ وہ مبینہ طور پر پیسے بھی مانگتے تھے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر آئنہ نے ان شکایات کے حوالے سے یونیورسٹی کے وائس پریزیڈنٹ کو رپورٹ کیا، جس کے بعد وائس پریزیڈنٹ نے حکم جاری کرتے ہوئے پروفیسر جدون کو عہدے سے ہٹا دیا۔ انہیں جمعہ کے روز عہدے سے ہٹایا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد پروفیسر جدون نے ڈاکٹر آئنہ کو مبینہ طور پر دھمکیاں دیں۔ ڈاکٹر آئنہ نے اپنے شوہر کو بتانے کے بجائے پولیس ایمرجنسی 15 پر کال کی۔

جمعہ کے روز ڈاکٹر آئنہ نے پولیس کو شکایت کی، جس پر پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ ڈاکٹر آئنہ نے وائس پریزیڈنٹ کو بھی بتایا کہ وہ ایف آئی آر درج کروانے جا رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے مالک ریاض، وائس پریزیڈنٹ کے ہمراہ تھانے پہنچے اور درخواست کی کہ پروفیسر جدون کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کی جائے۔ ذرائع کے مطابق پروفیسر جدون نے بعد ازاں ڈاکٹر آئنہ سے معافی بھی مانگی اور معافی نامہ جمع کروایا۔

جمعہ کے روز دھمکیوں کی رپورٹ ہونے کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: سرحد یونیورسٹی معاملے کے پیچھے وجہ کیا نکلی؟اصل حقیقت سامنے آگئی

ویک اینڈ پر جب ڈاکٹر آئنہ گھر پہنچیں تو انہوں نے اپنے شوہر کرنل اسفندیار کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق ان کے شوہر نے اس وقت صورتحال کو معمول پر رکھنے کی کوشش کی۔

پیر کے روز یونیورسٹی میں فارمیسی کے طلبہ کا احتجاج جاری تھا۔ ڈاکٹر آئنہ کو دوبارہ اسٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ بنا دیا گیا تھا اور وہ اسی حیثیت سے طلبہ سے مذاکرات کے لیے احتجاجی مقام پر گئیں۔

ذرائع کے مطابق اسی دوران پروفیسر جدون نے مبینہ طور پر موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر آئنہ کو ہراساں کیا اور انہیں دھکا دیا۔ ڈاکٹر آئنہ نے فوری طور پر 15 پر کال کی اور اپنی حفاظت کے لیے اپنی بہن کو بھی فون کر دیا۔

ذرائع کے مطابق کرنل اسفندیار نے اس صورتحال میں اپنی اہلیہ کی عزت اور حفاظت کے لیے معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد پروفیسر جدون بنوں میں کہیں روپوش ہو گئے ہیں، جبکہ ان کے خلاف پہلے ہی تھانے میں ایک درخواست موجود تھی۔

Related Articles