امریکا نے ایران سے منسلک کمپنیوں، افراد اور جہازوں کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کردیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کے مطابق ایران سے منسلک 60 اداروں، افراد اور جہازوں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ایران کے مختلف نیٹ ورکس سے منسلک سرگرمیوں کے خلاف مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ نئی پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں اور شخصیات کا تعلق ایران کے جوہری، میزائل، سائبر اور تیل کے نیٹ ورکس سے ہے۔ ان کے مطابق ایران کو بعض ترسیلات زر کی اجازت دینے والے عمومی لائسنس بھی معطل کردیئے گئے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ کے مطابق نئی پابندیوں کا دائرہ مختلف ممالک اور خطوں تک پھیلایا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات، ہانگ کانگ، چین، سنگاپور، سوئٹزرلینڈ اور یورپ میں موجود بعض بروکر کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی زد میں لایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روسی خفیہ بحری بیڑے کے جہازوں کے نیٹ ورک پر بھی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ امریکا کی جانب سے مختلف شعبوں سے منسلک سرگرمیوں کو بھی نئی پابندیوں کے تحت نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور بحری شعبوں کو ثانوی پابندیوں کا ہدف بنایا جائے گا۔ اس طرح ایران سے متعلق معاشی اور تجارتی سرگرمیوں میں ملوث دیگر فریق بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی رہنماؤں سے ایران کے ساتھ معاشی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا ایران سے متعلق سرگرمیوں کے خلاف اپنا دباؤ جاری رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر ملک کو امریکا کی جانب سے نشاندہی کردہ سرگرمیاں بند کرنے کے لیے واضح ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ اگر متعلقہ ممالک مقررہ مدت کے اندر کارروائی نہیں کرتے تو امریکا یک طرفہ طور پر کارروائی کرے گا۔
امریکی وزیر خزانہ کے بیان کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مختلف معاشی، مالی، تجارتی اور دیگر نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے۔ نئی پابندیوں میں مختلف شعبوں اور متعدد ممالک میں موجود اداروں اور افراد کو شامل کیا گیا ہے۔
امریکا کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران سے متعلق معاشی سرگرمیوں اور مختلف نیٹ ورکس پر امریکی دباؤ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ نئی پابندیوں کے ذریعے امریکا نے ایران سے منسلک اداروں اور افراد کے ساتھ ساتھ ان شعبوں کو بھی نشانے پر رکھنے کا اعلان کیا ہے جنہیں امریکی حکام ایران سے متعلق سرگرمیوں میں اہم قرار دے رہے ہیں۔