متحدہ اپوزیشن کی پارلیمانی جماعتوں کا پہلا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں حکومت کو مہنگائی، بے روزگاری، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور یوٹیلیٹی بلز میں اضافے سمیت عوامی مسائل پر پارلیمنٹ کے اندر سخت جواب دینے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے پارلیمانی سطح پر متحد ہو کر قومی معاملات پر مشترکہ موقف اپنانے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام، مجلس وحدت مسلمین، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان اہم پارلیمانی معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پارلیمانی کارروائی سے متعلق کسی بھی معاملے کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ اپوزیشن جماعتیں باہمی مشاورت سے کریں گی۔ جے یو آئی کی اپوزیشن اتحاد میں شمولیت کو بھی اجلاس میں خوش آئند قرار دیا گیا۔
اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی سمیت دیگر یوٹیلیٹی بلز میں عوام کو درپیش مشکلات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت پر زور دیا کہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔
اجلاس کے بعد محمود خان اچکزئی نے مولانا فضل الرحمان اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج خوشی اور مبارکباد کا دن ہے۔ گھٹن کے ماحول میں اپوزیشن آئین کی بالادستی کے لیے متفق ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آزاد عدلیہ اور پاکستان کے جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے متحد ہوئی ہیں۔ امید ہے کہ ایک باعزت اور جمہوری پاکستان کے لیے ان کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد پاکستان کی کھوئی ہوئی عظمت واپس دلانے میں کردار ادا کرے گا۔ ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور عوام کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی جماعتوں کو قومی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اس موقع پر فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان طے پایا ہے کہ معاملات باہمی اتفاق رائے سے طے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش نہیں اور اندرونی کمزوریوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
فضل الرحمان نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ملک اس وقت کہاں کھڑا ہے اور عالمی سطح پر ہماری پوزیشن کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مشکلات کے دوران صوبوں سے متعلق ایسی بحث شروع کرنا مناسب نہیں جس کے لیے نہ ماحول سازگار ہو اور نہ ہی مطلوبہ تیاری موجود ہو۔
اجلاس میں محمود خان اچکزئی، راجا ناصر عباس، مولانا فضل الرحمان، بیرسٹر گوہر اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں اور ارکان نے شرکت کی۔
اپوزیشن کے اس مشترکہ اجلاس کو پارلیمانی سیاست میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اتحاد کی جانب سے حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں آئندہ پارلیمانی کارروائی کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی مقابلہ مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔