وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا جواب وزیر اطلاعات یا وزیر قانون نہیں بلکہ وزیر داخلہ دیں گے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ توہین عدالت اس بات پر ہوئی ہے کہ ایک ہسپتال کے بجائے دوسرے ہسپتال میں چیک اپ کرایا گیا۔ تاہم ہسپتال امن و امان کی صورتحال کے باعث تبدیل کیا گیا اور امن و امان کی صورتحال کی ذمہ داری وزارت داخلہ کی ہے۔
اس لیے وزارت داخلہ سپریم کورٹ میں پیش ہوگی اور عدالت کے سامنے ثبوت رکھے گی۔ عدالت نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ کام نہیں کرنا لیکن پی ٹی آئی نے وہی کام کیا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مذاکرات کرنا اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھنا پی ٹی آئی کے خمیر میں نہیں۔ تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی سے شروع اور ان پر ہی ختم ہوتی ہے۔ اپوزیشن میں پی ٹی آئی کے سوا کون اختلاف رکھتا ہے۔ سب ہمارے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔
جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف احتجاج پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کو احساس کرتے ہوئے احتجاج ختم کرنا چاہیے۔ اس احتجاج میں عوام شامل نہیں۔ عوام نے جماعت اسلامی کے احتجاج کو مسترد کردیا ہے۔
انہوں نے جماعت اسلامی کو مشورہ دیا کہ یہ کام چھوڑ دیں۔ جب احتجاج میں کوئی شامل ہی نہیں ہوا تو اسے عوامی احتجاج کیسے کہا جاسکتا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ خالد باٹھ کو بھی جانتے ہیں اور ان کسانوں کو بھی جانتے ہیں جنہیں وہ لے کر آئے تھے۔ لوگوں کو اطمینان ہے کہ مسلم لیگ ن کو لوگوں کے مسائل کا ادراک ہے۔ ہماری سفارتی کوشش کامیاب ہوتی ہے تو مہنگائی اور دیگر مشکلات حل ہونے کے امکانات ہیں۔
اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی میں کوئی دشواری نہیں۔ آج خصوصی نشستوں پر انتخاب ہوگیا ہے۔ ہمارے 6 امیدوار منتخب ہوئے ہیں اور آزاد کشمیر اسمبلی میں اب ہمارے ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی مظاہرین سے متعلق جو فیصلہ کرے وہ آزاد ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ لوگ آپس میں اپنے مسائل کو بہتر انداز میں حل کریں گے۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے ہوتے ہوئے کوئی الائنس نہیں بن سکتا۔ پی ٹی آئی کے خمیر میں ہی نہیں ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون کرے۔ وزیر داخلہ کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق بنانا یا نہ بنانا ان کا اپنا فیصلہ ہے۔