اسٹیٹ بینک نے ایک سال میں کتنے ہزار ارب روپے کما لیے؟ حیران کن اعداد و شمار سامنے آگئے

اسٹیٹ بینک نے ایک سال میں کتنے ہزار ارب روپے کما لیے؟ حیران کن اعداد و شمار سامنے آگئے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2025-26 کے دوران شاندار مالی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1 ہزار 990 ارب 35 کروڑ روپے کا خالص منافع حاصل کیا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری مالیاتی رپورٹ میں بینک کی آمدنی اور اخراجات سمیت مختلف مالیاتی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران بینک کی مجموعی آمدنی 2 ہزار 78 ارب روپے رہی۔ مختلف اکاؤنٹنگ اصولوں اور قانونی تقاضوں کے تحت ضروری رقم مختص کرنے کے بعد مرکزی بینک نے 1 ہزار 932 ارب روپے کا اضافی منافع وفاقی حکومت کو منتقل کردیا۔

 یہ بھی پڑھیں :عالمی غذائی مہنگائی کا خدشہ، پاکستان کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی، اسٹیٹ بینک نے خبردار کردیا

مالیاتی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کی آمدنی میں مارک اپ اور ڈسکاؤنٹ سے حاصل ہونے والی رقم کا نمایاں حصہ رہا۔ مرکزی بینک نے مالی سال کے دوران مارک اپ اور ڈسکاؤنٹ کی مد میں 2 ہزار 37 ارب روپے کمائے۔ اس کے علاوہ مبادلہ آمدنی سے بھی بینک کو 76 ارب روپے حاصل ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کے انتظامی اور دیگر امور چلانے پر مالی سال کے دوران 88 ارب روپے خرچ ہوئے جبکہ کرنسی نوٹوں کی چھپائی پر 29 ارب روپے کے اخراجات آئے۔ اس طرح بینک کی مجموعی آمدنی اور اخراجات کے بعد حاصل ہونے والا خالص منافع تقریباً 1 ہزار 990 ارب روپے رہا۔

اسٹیٹ بینک کی مالیاتی رپورٹ میں مرکزی بینک کے اثاثوں کی مجموعی مالیت بھی ظاہر کی گئی ہے۔ 30 جون 2026 تک اسٹیٹ بینک کے اثاثوں کی مالیت 28 ہزار 732 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ مرکزی بینک کے پاس موجود سونے کے ذخائر کی مالیت 2 ہزار 334 ارب روپے بتائی گئی ہے۔

رپورٹ میں زیر گردش کرنسی نوٹوں کی مالیت کے حوالے سے بھی اہم اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔ مالی سال کے اختتام پر ملک میں زیر گردش نوٹوں کی مجموعی مالیت 1 ہزار 265 ارب روپے رہی۔

 یہ بھی پڑھیں :صارفین متوجہ ہوں، اسٹیٹ بینک نے ملک بھر کے بینکوں میں عام تعطیل کا اعلان کردیا

مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران حاصل ہونے والے منافع اور حکومت کو منتقل کی جانے والی رقم ملکی مالیاتی نظام میں اسٹیٹ بینک کے اہم کردار کو ظاہر کرتی ہے۔ حکومت کو منتقل ہونے والی رقم وفاقی مالیاتی وسائل میں شامل ہوگی۔

اسٹیٹ بینک ہر مالی سال کے اختتام پر اپنی مالیاتی کارکردگی اور بیلنس شیٹ کی تفصیلات جاری کرتا ہے جس میں آمدنی، اخراجات، اثاثوں، سونے کے ذخائر اور زیر گردش کرنسی سمیت مختلف شعبوں کی صورتحال واضح کی جاتی ہے۔ حالیہ رپورٹ میں بھی مرکزی بینک کی مالی پوزیشن سے متعلق اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔

editor

Related Articles