ایران سے روابط،ٹرمپ کا چین کے خلاف بڑے اقدام کا عندیہ

ایران سے روابط،ٹرمپ کا چین کے خلاف بڑے اقدام کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروباری اور مالی روابط رکھنے والے چینی بینکوں کے خلاف ممکنہ پابندیوں کا عندیہ دے دیا ہے۔ امریکی صدر کے اس بیان سے ایران کے خلاف واشنگٹن کی معاشی دباؤ کی پالیسی مزید سخت ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں جبکہ چین اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی اور سفارتی اختلافات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں نے امریکی صدر سے سوال کیا کہ آیا ان کی انتظامیہ ایران سے متعلق مالی لین دین کرنے والے چینی بینکوں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سوال کا واضح اور براہ راست جواب دینے کے بجائے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ کس نے کہا ہے کہ وہ ایسا نہیں کر رہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ کسی کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کیا اقدام کرنے والے ہیں کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر فیصلے کا پہلے سے اعلان کیا جائے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایرانی سپریم لیڈ رمجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہیں ، ٹرمپ کا دعویٰ

ٹرمپ کے بیان کو ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی امریکی حکمت عملی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن پہلے ہی ایران کے خلاف مختلف مالی اور اقتصادی پابندیاں عائد کرچکا ہے اور امریکی حکام کی جانب سے ایران سے متعلق مالی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔ تاہم چینی بینکاری نظام کو براہ راست نشانہ بنانے والا کوئی بڑا قدم امریکا اور چین کے درمیان تعلقات پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ماضی میں چین اور ہانگ کانگ میں قائم متعدد کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں۔ امریکی حکام ان اداروں پر ایران کی حکومت اور اس کی مسلح افواج کی معاونت کرنے یا ایرانی مفادات سے منسلک مالی سرگرمیوں میں کردار ادا کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ تاہم اب تک بڑے چینی بینکوں کو وسیع پیمانے پر پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

ایران اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات خاص طور پر توانائی کے شعبے میں اہم ہیں۔ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تیل کی تجارت نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ ایرانی تیل کی خرید و فروخت سے متعلق ادائیگیوں سمیت دیگر تجارتی لین دین میں چینی مالیاتی اداروں کا کردار بھی موجود ہے۔

اگر امریکی انتظامیہ نے بڑے چینی بینکوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی مالیاتی نظام، چین امریکا تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اس ممکنہ اقدام سے ایرانی تیل کی تجارت اور اس سے وابستہ مالی معاملات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

 مزید پڑھیں :ٹرمپ کی معاشی جنگ پرانی امریکی غنڈہ گردی ہے، دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں،عباس عراقچی

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق چینی بینکوں کے خلاف کسی بھی بڑے اقدام سے امریکا کی جانب سے تہران کو عالمی سطح پر مزید تنہا کرنے کی کوششوں میں شدت آسکتی ہے۔ دوسری جانب چین ممکنہ امریکی پابندیوں کو اپنے تجارتی اور اقتصادی مفادات میں مداخلت قرار دے سکتا ہے۔

فی الحال امریکی صدر نے پابندیوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ یا تفصیلات سامنے نہیں لائیں۔ تاہم ان کے حالیہ بیان نے اس امکان کو ضرور تقویت دی ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مالی روابط رکھنے والے اداروں کے خلاف مزید سخت اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

editor

Related Articles