راولپنڈی کے تین بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات مکمل نہ ہونے اور بعض اہم حفاظتی نظام غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق بینظیر بھٹو ہسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال اور ہولی فیملی ہسپتال میں آگ لگنے کی صورت میں مریضوں اور عملے کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات ابھی مکمل طور پر فعال نہیں کیے جاسکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ ہسپتالوں میں فائر سیفٹی سے متعلق بعض بنیادی سہولیات موجود ہونے کے باوجود حفاظتی نظام کی مکمل فعالیت ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ کئی مقامات پر ہنگامی صورت حال میں عمارت سے باہر نکلنے کے راستوں میں رکاوٹوں کی موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :پنجاب کے ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کیلئے نئے فائر ہائیڈرنٹس نصب ہوں گے
ماہرین کے مطابق ہسپتالوں میں ایمرجنسی راستوں کا ہر وقت کھلا اور قابل استعمال ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ آگ یا دھوئیں کی صورت میں چند منٹ کی تاخیر بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق الائیڈ ہسپتالوں میں آگ بجھانے کے لیے واٹر ہائیڈرنٹس نصب ہیں تاہم بعض ضروری مقامات پر دھوئیں کی بروقت نشاندہی کرنے والے آلات موجود نہیں ہیں۔ اسموک الارم اور اسموک ڈیٹیکشن سسٹم آگ لگنے کے ابتدائی مرحلے میں خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان نظاموں کی عدم موجودگی سے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت کارروائی متاثر ہوسکتی ہے۔
پمز میں پیش آنے والے حالیہ آتشزدگی کے واقعے کے بعد راولپنڈی کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ لینے اور خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت مزید نمایاں ہوگئی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کو فائر الارم، ایمرجنسی اخراج کے راستوں اور دھوئیں کی نشاندہی کرنے والے نظام فوری طور پر فعال کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
حکام نے بچوں کے وارڈز اور گائنی وارڈز کو خصوصی ترجیح دینے کی ہدایت بھی کی ہے۔ ان وارڈز میں زیر علاج مریضوں کو ہنگامی حالات میں فوری طور پر منتقل کرنا بعض اوقات مشکل ہوجاتا ہے اس لیے یہاں فائر سیفٹی کے مؤثر انتظامات انتہائی اہم قرار دیے جاتے ہیں۔
متعلقہ حکام کی جانب سے ہسپتالوں میں موجود فائر سیفٹی آلات کی کارکردگی جانچنے اور ہنگامی اخراج کے راستوں سے رکاوٹیں دور کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہسپتال کے عملے کو آگ لگنے کی صورت میں فوری کارروائی اور مریضوں کے محفوظ انخلا کے طریقہ کار سے آگاہ کرنا بھی ضروری قرار دیا جارہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے مریض پہلے ہی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے میں ان کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے فائر سیفٹی نظام میں کسی قسم کی غفلت قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔ ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ حفاظتی انتظامات کو صرف کاغذی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر فعال رکھا جائے اور باقاعدگی سے ان کی جانچ بھی کی جائے۔
حکام نے ہدایت کی ہے کہ ہسپتالوں میں فائر سیفٹی سے متعلق تمام خامیوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے کی صورت میں جانی نقصان کے خطرے کو کم سے کم کیا جاسکے۔