سانحہ پمز: جاں بحق نومولود بچوں کے لواحقین کے لیے فی کس 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان

سانحہ پمز: جاں بحق نومولود بچوں کے لواحقین کے لیے فی کس 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان

وفاقی حکومت نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کے لواحقین کے لیے فی کس 50 لاکھ روپے مالی معاوضے کا اعلان کردیا۔

حکومت پاکستان کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم اور دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ مالی معاوضہ قیمتی انسانی جانوں کا نعم البدل نہیں، کیونکہ جاں بحق ہونے والے بچے واپس نہیں لائے جا سکتے۔

حکومت کے مطابق مالی معاونت کا مقصد غمزدہ خاندانوں کی مشکلات کو کم کرنا اور ان کے دکھ میں کچھ مداوا کرنا ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون اور معاونت فراہم کرے گی۔ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں وہ ان کے غم میں شریک ہے۔

واضح رہے کہ 26 اگست 2026 کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ مذکورہ المناک واقعے کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ ایک بچہ زندہ بچایا گیا تھا۔ واقعے کے بعد اسپتال میں حفاظتی انتظامات اور آگ لگنے کی وجوہات سے متعلق مختلف سوالات سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیں: پمزواقعہ،عبوری انکوائری رپورٹ کل آئے گی،ذمہ داروں کا تعین ہوگا،وزیر قانون

آتشزدگی کے بعد ابتدائی طور پر ایئرکنڈیشننگ یونٹ میں دھماکے کو آگ لگنے کی وجہ بتایا گیا تھا۔ دوسری جانب پمز کی ابتدائی رپورٹ میں نیبولائزر سے متعلق دھماکے اور نرسری میں زیادہ آکسیجن کے باعث آگ کے تیزی سے پھیلنے کا ذکر سامنے آیا۔ تاہم آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین تحقیقاتی کمیٹی کرے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سانحے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سابق وفاقی سیکرٹری شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔ کمیٹی کو واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے اور ذمہ داری کا تعین کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی آگ لگنے کی وجہ کا تعین کرے گی، جبکہ ہنگامی صورت حال کے دوران اسپتال کے عملے اور متعلقہ اداروں کے ردعمل کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

کمیٹی کو نومولود بچوں کے انخلا کے طریقہ کار، فائر سیفٹی انتظامات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔حکومت نے کمیٹی کو ابتدائی رپورٹ 48 گھنٹوں جبکہ جامع رپورٹ 5 روز میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Related Articles